10 لاکھ اضافی دستاویزات کا ممکنہ طور پر 'ایپسٹین کیس' سے تعلق ہے : امریکی وزارت انصاف
وزارت دستاویزات کے اجرا سے قبل اس وقت ان پر نظر ثانی کر رہی ہے
امریکی وزارت انصاف نے بدھ کی شام اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس 10 لاکھ سے زائد مزید ایسی دستاویزات موجود ہیں جن کا تعلق جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے ہو سکتا ہے۔ وزارت نے اشارہ کیا ہے کہ وہ ان دستاویزات کو جاری کرنے سے قبل ان پر نظر ثانی کر رہی ہے۔
وزارت انصاف نے گذشتہ ہفتے ایپسٹین کیس کی تحقیقات سے متعلق دستاویزات اور تصاویر کا اجرا شروع کیا تھا۔ جیفری ایپسٹین ایک متمول سرمایہ دار تھا جو 2019 میں نیویارک کی ایک جیل میں اس وقت ہلاک ہو گیا تھا جب وہ کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمے کا انتظار کر رہا تھا۔
گذشتہ ماہ کانگریس نے تقریباً اتفاقِ رائے سے "ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ" منظور کیا تھا جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کیے تھے۔ اس قانون کے تحت ایپسٹین کی تمام فائلوں کو 19 دسمبر تک جاری کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
تاہم، وزارت انصاف اس ڈیڈ لائن کی پابندی نہ کر سکی۔ نائب وزیر انصاف ٹوڈ بلانچ نے اس تاخیر کی وجہ یہ بتائی کہ ایپسٹین کے متاثرین کی شناخت کو احتیاط کے ساتھ پوشیدہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
وزارت انصاف نے بدھ کو واضح کیا کہ اسے نئے مواد کی چھانٹی اور اسے درست کرنے کے لیے "مزید چند ہفتوں" کی ضرورت ہو گی۔ وزارت نے مزید بتایا کہ نیویارک کے جنوبی ضلع کے پراسیکیوٹر اور ایف بی آئی (FBI) نے "10 لاکھ سے زائد ایسی مزید دستاویزات دریافت کی ہیں جن کا ممکنہ طور پر جیفری ایپسٹین کیس سے تعلق ہے"۔
ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں وزارت نے کہا "ہمارے وکلاء متاثرین کے تحفظ کے لیے قانونی طور پر مطلوبہ نظر ثانی اور ترامیم پر چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں، اور ہم جلد از جلد یہ دستاویزات شائع کر دیں گے"۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ "مواد کی بڑی مقدار کے پیشِ نظر، اس عمل میں مزید چند ہفتے لگ سکتے ہیں"۔