نائیجیریا کی پولیس نے جمعرات کو شبہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کی شمال مشرقی ریاست بورنو میں کرسمس کے موقع پر ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں ایک خودکش بمبار کا ہاتھ تھا۔
پولیس ترجمان نے ہلاک شدگان کی تعداد پانچ اور زخمیوں کی 35 بتائی۔ بدھ کو ایک عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔
عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق بم دھماکہ دارالحکومت میدوگوری کی گمبورو مارکیٹ میں ایک پُرہجوم مسجد میں تقریباً شام چھے بجے ہوا۔
پولیس کے ترجمان نہم داسو نے صحافیوں کو بتایا، "ایک نامعلوم شخص جس کے بارے میں ہمیں دہشت گرد گروپ کا رکن ہونے کا شبہ ہے، مسجد کے اندر داخل ہوا اور جب نماز جاری تھی تو ہم نے ایک دھماکہ ریکارڈ کیا۔"
داسو نے بدھ کو ایک بیان میں کہا، "مشتبہ خودکش جیکٹ کے ٹکڑوں کی برآمدگی اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر یہ ایک خودکش دھماکہ ہو سکتا ہے۔"
دھماکے کے بعد بازاروں، عبادت گاہوں اور دیگر عوامی مقامات پر پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے۔
کئی برسوں سے جاری بدامنی کے باعث مغربی افریقی ملک کے مختلف حصوں میں شدت پسندوں کے حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں بدامنی میں کمی آئی ہے اور میدوگوری میں آخری بڑا حملہ 2021 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
-
نائیجیریا کی مسجد میں دھماکے نے سات افراد جان لی لے
عینی شاہدین اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق بدھ کو شمال مشرقی نائیجیریا کے شہر ...
بين الاقوامى -
کویت نے توانائی مشروبات کی خریداری کی عمر 18 سال سے زائد مقرر کر دی
کویت میں توانائی بڑھانے والے مشروبات کی فروخت پر نیا قواعد و ضوابط کی منظوری دی ہے ...
مشرق وسطی -
"داعش پر کاری ضرب"... شامی حکام نے تنظیم کا ایک اہم کمانڈر گرفتار کر لیا
کارروائی بین الاقوامی اتحاد کے تعاون سے انجام دی گئی
بين الاقوامى