انسان نما روبوٹ جو صرف انسانوں کے مشاہدے سے باورچی خانے کے کام سیکھتا ہے
پہلے سے طے شدہ پروگرامنگ کے بغیر کام کرنے والے اس روبوٹ کا نام"Memo" ہے اور اسے متوقع طور پر 2026 میں تجربے کے لیے پیش کیا جائے گا
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم روبوٹکس کے شعبے کی ماہر کمپنی "سنڈے روبوٹکس" نے ایک نئی وڈیو جاری کی ہے، جس میں ان کا انسان نما روبوٹ "Memo" انسانی مہارت کے قریب تر انداز میں متنوع کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
عام طور پر پہلے سے پروگرام شدہ انسان نما روبوٹ ان اشیاء کے ساتھ کام کرنے میں ناکام رہتے ہیں جنہیں وہ پہچان نہیں پاتے، کیونکہ ان کے لیے ایسے افعال انجام دینا تقریباً نا ممکن ہوتا ہے جو ان کے سسٹم میں پہلے سے فیڈ نہ کیے گئے ہوں۔
اس حوالے سے ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کی خبروں سے متعلق ویب سائٹ "انٹریسٹنگ انجینئرنگ" کی رپورٹ کو "العربیہ بزنس" نے دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق "سنڈے روبوٹکس" نے اس بنیادی خامی کو دور کرنے کے لیے "Memo" روبوٹ کو انسانوں کی طرح وجدانی بنایا ہے، تاکہ وہ پہلے سے طے شدہ پروگرامنگ پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھ سکے۔
وڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ "Memo" روبوٹ کمال مہارت کے ساتھ "کچھ بھی اٹھانے" کا ٹیسٹ دے رہا ہے، جہاں اس نے مختلف شکلوں اور سائز کی اشیاء کو بالکل انسانی انداز میں اٹھایا۔
یہ انسان نما روبوٹ صرف اشیاء اٹھانے اور رکھنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ میزیں اور برتن صاف کرنے، جرابوں کے ڈھیر لگانے، کپڑے دھونے، مٹی کے برتنوں کو سنبھالنے اور ایسپریسو کافی تیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور مہارتوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے ذخیرے کی بدولت "Memo" مخصوص کاموں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ مسلسل سیکھتا رہتا ہے اور اپنے پیش رو کسی بھی روبوٹ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے۔
اس انسان نما روبوٹ کو کمپنی کے تیار کردہ "Skill Capture" نامی دستانے سے لیس کیا گیا ہے، جو اس کی ہتھیلیوں کا کام کرتا ہے۔ دستانے کے ذریعے کی جانے والی ہر حرکت کو "Memo" سیکھ لیتا ہے۔
بنیادی طور پر یہ دستانہ روبوٹ کو لاکھوں انسانی حرکات کو اپنی اندرونی مصنوعی ذہانت میں منتقل کرنے اور گھر کے مفید کام سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اگرچہ ابھی اسے مارکیٹ میں پیش نہیں کیا گیا، لیکن کمپنی 2026 کے اواخر میں ایک آزمائشی پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس میں محدود تعداد میں خاندانوں کو مفت میں "Memo" آزمانے کی دعوت دی جائے گی۔
البتہ اس بات کی توقع نہیں کی جا رہی ہے کہ نقل کے ذریعے سیکھنے کا عمل (Learning by imitation) مکمل طور پر پروگرام ایبل روبوٹس پر حاوی ہو جائے گا اور ان کی جگہ لے لے گا۔
روایتی پروگرامنگ کے مقابلے میں انسان نما روبوٹس کو تربیت دینے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہونے کی وجہ سے "نقل کے ذریعے سیکھنے" کا عمل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ یہی چیز اسے گھروں، ہسپتالوں، ریٹیل اسٹورز اور عوامی خدمات کے شعبوں جیسے غیر متوقع ماحول کے لیے مثالی بناتی ہے، جہاں ہر جگہ دوسری سے مختلف ہوتی ہے اور وہاں مکمل درستگی (Perfection) سے زیادہ لچک (Flexibility) اہمیت رکھتی ہے۔
پروگرام ایبل روبوٹس اب بھی فیکٹریوں، گوداموں اور اعلیٰ درستگی والی صنعتوں میں غالب رہیں گے، جہاں استحکام، بھروسہ مندی اور حفاظت ایسے معاملات ہیں جن پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
مستقبل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایک طریقہ دوسرے کی جگہ لینے کے بجائے، دونوں طریقے ایک ساتھ پہلو بہ پہلو موجود رہیں گے۔