جیسا کہ 2026 کی آمد آمد ہے تو ظہران ممدانی نیو یارک سٹی کے میئر بننے والے ہیں لیکن تقریبات سالِ نو کے پہلے دن تک جاری رہیں گی۔
ڈیموکریٹ میئر کی ٹیم جمعرات کو حلف برداری کی دو الگ الگ تقریبات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ایک مختصر اور نجی تقریب ان کے خاندان کے ہمراہ نصف شب کے قریب ایک پرانے سب وے سٹیشن میں ہو گی اور اس کے بعد دوپہر کو سٹی ہال کے باہر ایک بڑی عوامی تقریب ہو گی۔
چونکہ نئے سال کے ساتھ ہی نئے میئر کی مدت شروع ہو جاتی ہے تو شہر کے آنے والے رہنماؤں کے لیے دو تقاریب منعقد کرنے کا رواج رہا ہے۔ سبکدوش ہونے والے میئر ایرک ایڈمز نے مشہور بال ڈراپ کے فوراً بعد ٹائمز سکوائر میں اپنی ابتدائی حلف برداری منعقد کی تھی جبکہ ایڈمز کے پیشرو بل ڈی بلاسیو نے اپنا پہلا حلف بروک لین میں گھر پر لیا۔
ممدانی مین ہٹن کے سابق سٹی ہال کے سب وے سٹیشن پر ابتدائی حلف اٹھائیں گے۔
نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز جو ممدانی کی حلیف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک قابلِ ذکر سیاسی حریف ہیں، عہدے کا حلف لیں گی۔
ایک بیان میں ممدانی کے دفتر نے کہا کہ سٹیشن پر حلف لینے کے فیصلے سے ان کی "کام کرنے والے ان لوگوں سے وابستگی کی عکاسی ہوتی ہے جو ہمارے شہر کو روزانہ چلاتے ہیں۔"
جمعرات کی سہ پہر ممدانی امریکی سینیٹر برنی سینڈرز سے دوبارہ حلف لیں گے جو ان کے لیے ایک سیاسی ہیرو ہیں۔ اس کے لیے سٹی ہال کی سیڑھیوں پر ایک تقریب دوپہر ایک بجے ہو گی۔ امریکی نمائندہ اور ایک اور سیاسی اتحادی الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اس موقع پر افتتاحی کلمات پیش کریں گی۔
ممدانی کی افتتاحی کمیٹی میں اداکار جان ٹرٹرو، ڈرامہ نگار کول ایسکولا اور مصنف کولسن وائٹ ہیڈ کے ساتھ ساتھ وکلاء، چھوٹے کاروباری مالکان اور مہم کے کارکنان شامل ہیں جن کے بارے میں آئندہ میئر کے دفتر نے کہا ہے کہ ان افراد نے تقریب کے لیے "رہنمائی اور ثقافتی حساسیت فراہم کی"۔
عوامی حلف برداری میں ایک بلاک پارٹی شامل ہو گی۔ ممدانی کے دفتر کو اس میں ہزاروں لوگ کی شرکت کی توقع ہے اور کہا گیا ہے کہ اس میں فن کا مظاہرہ، موسیقی اور بین المذاہب عناصر ہوں گے۔