خطرناک ترین براعظم افریقہ کو سائیکل پر عبور کرنے والی مراکشی خاتون

34 ملکوں کی سرحدیں عبور کیں، سفر تین سال جاری رہا: مریم بلكيحل کی ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اس وقت جب بہت سے غیر ملکی سیاح افریقہ کو خطرناک ترین براعظم کے طور پر پیش کرتے ہیں مراکش کی مریم بلكيحل نے اس کے برعکس سمت میں چلنے کا فیصلہ کیا۔ تیس کی دہائی کے آغاز میں ایک نوجوان مراکشی خاتون کے طور پر انہوں نے سائیکل پر افریقی براعظم کے قلب میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے 34 ممالک کی سرحدیں عبور کیں۔ یہ ایک ایسا سفر تھا جو تین سال تک جاری رہا جس میں انہوں نے سکیورٹی، جغرافیائی اور نفسیاتی خطرات کو چیلنج کیا۔

مریم کسی عارضی مہم جوئی کی تلاش میں نہیں تھیں بلکہ وہ ذات کے حقیقی امتحان کی تلاش میں تھیں۔ انہوں نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سفر سب سے بڑھ کر ایک نفسیاتی علاج تھا۔ انہوں نے کہا طویل مراحل میں میں روزانہ تقریباً 200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی تھی اور پورے راستے میں اپنے آپ سے باتیں کرتی تھی۔ مریم نے کہا میں نے کسی خاص راستے کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی، میں راستہ خود کو راستہ دکھانے کے لیے چھوڑ دیتی تھی۔

ان کا سفر، جو موریطانیہ سے شروع ہو کر مصر تک پہنچا، اس میں نہ تو پہلے سے تیار شدہ نقشوں پر انحصار کیا گیا اور نہ ہی سخت ٹائم ٹیبل پر بلکہ انہوں نے بے ساختگی کو چنا تھا۔ وہ شہروں سے زیادہ دیہاتوں میں ٹھہریں، جہاں ایک اکیلی مراکشی خاتون کے سائیکل پر سفر کرنے پر شروع میں ہونے والی حیرت، اپنائیت اور تعاون میں بدل گئی۔ خاص طور پر افریقی خواتین کی طرف سے انہیں اپنائیت ملی۔

مریم بلكيحل ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘کے ساتھ ایسے لمحات شیئر کرتی ہیں جنہیں وہ اپنی کہانی میں اہم موڑ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ افریقی خواتین مضبوط اور بہادر ہیں۔ وہ اپنے معاشروں میں سب سے زیادہ کام کرنے والی ہیں۔ کئی مقامات پر انہوں نے میرا دفاع کیا اور میری مدد کی۔

مریم نے اپنے سفر میں نہ تو جرائم پیشہ گروہ دیکھے اور نہ ہی وہ خوفناک جنگل دیکھے جن کی تشہیر کی جاتی ہے۔ بلکہ مریم نے افریقہ کا دوسرا چہرہ دیکھا۔ ایک ایسا براعظم جو اپنی قدرتی اور انسانی نعمتوں سے مالا مال ہے اور اپنے پُرتپاک لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے خوف کو سکون میں بدل دیا۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ راستے میں ان کے انتخاب دقیانوسی تصورات کے بجائے انسانوں پر اور انتباہات کے بجائے اعتماد پر مبنی تھے۔ تاکہ وہ یہ دریافت کر سکیں کہ جس افریقہ میں وہ رہیں اسے خطرات سے نہیں بلکہ دلوں سے ناپا جاتا ہے۔ فطرت اور اس کی مخلوقات کا سامنا کرنے کے حوالے سے مریم نے بتایا کہ راستہ ہمیشہ محفوظ نہیں تھا۔ ایک مقام پر انہوں نے خود کو ایک ہاتھی اور ایک شیر کے آمنے سامنے پایا جہاں وہ بھاگنے پر مجبور ہو گئیں۔ ایسا ہی انہیں علاقے کے لوگوں نے سکھایا تھا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فطرت کا مقابلہ طاقت سے نہیں بلکہ سمجھ بوجھ سے کیا جاتا ہے۔ مریم اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ انہوں نے زمین پر جو کچھ تجربہ کیا وہ افریقہ کے بارے میں رائج دقیانوسی تصورات کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقی لوگوں نے غیر معمولی سخاوت کا مظاہرہ کیا اور ان کے ساتھ اپنا کھانا پینا بانٹا۔ مریم نے کہا کہ بچے اس سفر کا ایک روشن حصہ تھے جن کے ساتھ امیں نے خوف سے دور خوشی کے سادہ لمحات گزارے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں