بنگلہ دیش کی مذہبی سیاسی جماعت متحدہ حکومت کے لیے آمادہ ہے
جماعتِ اسلامی تقریباً 17 سال بعد پہلی بار انتخابات میں حصہ لے گی
سابقہ کالعدم کردہ بنگلہ دیشی مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ نے کہا کہ وہ ایک متحدہ حکومت میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے کئی دیگر سیاسی جماعتوں سے اس سلسلے میں بات کی ہے۔ مذہبی بنیادوں پر قائم کردہ جماعتِ اسلامی نے فروری کے پارلیمانی ووٹ میں مضبوط ترین انتخابی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق تقریباً 17 سالوں میں پہلی بار انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتِ اسلامی سے توقع ہے کہ وہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے بعد معمولی فرق کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے گی جو اس کے لیے 175 ملین کے مسلم اکثریتی ملک میں مرکزی دھارے کی سیاست میں واپسی ہو گی۔
جماعت نے آخری بار 2001 اور 2006 کے درمیان بی این پی کے ساتھ جونیئر اتحادی شراکت دار کے طور پر اقتدار سنبھالا تھا اور وہ اس کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
چند دن قبل جماعت نے جین زی پارٹی کے ساتھ ایک باضابطہ معاہدہ یا اتحاد قائم کر کے خبروں میں جگہ بنائی جس کے بعد جماعت کے سربراہ شفیق الرحمٰن نے ڈھاکہ کے ایک رہائشی علاقے میں قائم اپنے دفتر میں ایک انٹرویو میں کہا، "ہم کم از کم پانچ سال تک ایک مستحکم ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر جماعتیں یکجا اور متحد ہو جائیں تو ہم مل کر حکومت چلائیں گے۔"
شفیق الرحمٰن نے کہا، انسدادِ بدعنوانی کسی بھی متحدہ حکومت کا مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا، وزیرِ اعظم 12 فروری کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی پارٹی سے ہو گا۔ اگر ہماری جماعت سب سے زیادہ نشستیں جیتے تو پارٹی فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ خود امیدوار ہوں گے یا کوئی اور۔
اگست 2024 میں نوجوانوں کے زیرِ قیادت ہونے والی بغاوت میں دیرینہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو معزول کر دیا گیا جس کے بعد پارٹی کی بحالی ہوئی ہے۔
رحمٰن نے کہا کہ ڈھاکہ سے فرار ہونے کے بعد حسینہ کا بھارت میں مسلسل قیام ایک تشویش کا باعث ہے کیونکہ ان کی معزولی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات عشروں کے کم ترین مقام پر پہنچ چکے ہیں۔
پاکستان کے ساتھ جماعت کی تاریخی قربت کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا: "ہم سب کے ساتھ متوازن طریقے سے تعلقات برقرار رکھتے ہیں۔"
انہوں نے کہا، کوئی بھی حکومت جس میں جماعتِ اسلامی شامل ہو، صدر محمد شہاب الدین کے ساتھ "اطمینان اور اعتماد محسوس نہیں کرے گی" جو 2023 میں عوامی لیگ کی حمایت سے بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے۔