وینزویلا کے دارالحکومت کراکس اور دیگر علاقوں میں متعدد زور دار دھماکوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے اور دونوں کو فضائی راستے سے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت انجام دی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وینزویلا سے متعلق تمام تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی جبکہ اس معاملے پر فلوریڈا میں واقع مارالاگو ریزورٹ میں ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔
امریکی نائب وزیر خارجہ کا ردعمل
امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو نے اس پیش رفت کو وینزویلا کے لیے نیا سویرا قرار دیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ مادورو بالآخر اپنے جرائم کا حساب دیں گے۔
A new dawn for Venezuela! 🙏 The tyrant is gone. He will now—finally—face justice for his crimes. 🇺🇸🇻🇪 pic.twitter.com/oNhW6b9soh
— Christopher Landau (@DeputySecState) January 3, 2026
ڈیلٹا فورسز کی کارروائی
باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مادورو کو امریکی فوج کی ایلیٹ فورس سمجھی جانے والی ڈیلٹا فورسز نے گرفتار کیا۔ یہ بات امریکی نشریاتی ادارے ’سی بی ایس‘ نیوز نے رپورٹ کی ہے۔
یہ پیش رفت وینزویلا کے ایوان صدرکی جانب سے ملک میں نفیر عام کا اعلان کیا گیا ہے۔ وینزویلا کی حکومت نے اس سے قبل تمام قومی دفاعی منصوبے فعال کرنے کا حکم دیا تھا اور امریکہ پر کھلی جارحیت کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ امریکہ نے وینز ویلا پر حملہ کرکے ایک پڑوسی ملک کی خود خودمختاری اور اسٹریٹجک وسائل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان خیل نے حکومتی بیان میں کہا کہ صدر مادورو نے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کی تبدیلی کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی جیسا کہ ماضی میں ہو چکا ہے
مادورو کا مقام نامعلوم
دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسے رودریگیز نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے ٹھکانے کا علم نہیں۔ انہوں نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے۔
امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی
واضح رہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ امریکی افواج نے بارہا ایسے جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا جن پر منشیات اسمگلنگ کا شبہ تھا۔ امریکی حکومت کے مطابق ان کارروائیوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
امریکہ نے بحیرہ کیریبین میں اپنی عسکری موجودگی میں بھی نمایاں اضافہ کیا اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز سمیت دیگر جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے تعینات کیے۔
اس کے مقابلے میں صدر مادورو مسلسل واشنگٹن پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ طویل عرصے سے کاراکاس میں اقتدار کی تبدیلی اور ملک کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔