غزہ : 'انروا' شدید مالی بحران کا شکار ، 571 مقامی کارکنوں کی ملازمت ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینیوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' کو ان دنوں بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے 'انروا' نے اپنے سینکڑوں کارکنوں کو ملازمت سے نکال دیا ہے۔ ان کارکنوں کا تعلق غزہ کے علاقے سے بتایا جاتا ہے۔

مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو معلوم ہوا ہے کہ 'انروا' نے 571 مقامی کارکنوں کو نکالنے کا فیصلہ منگل کے روز کیا ہے۔ انہیں باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے کہ فوری طور پر ملازمت سے فارغ ہیں۔

'انروا' پچھلی سات دہائیوں سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے مدد کرنے والے ادارے کے طور پر متحرک رہا ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے یہ امدادی کام غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور شام میں بھی انروا انجام دیتی ہے۔ لیکن اب 'انروا' رضاکارانہ طور پر ملنے والے فنڈز میں واضح کمی دیکھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اسے سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے اور اسے اپنے سینکڑوں ملازمین کی ملازمت ختم کرنا پڑی ہے۔

ترجمان کے مطابق 'انروا' کو اتنا شدید بحران پہلے کبھی نہیں دیکھنا پڑا۔

سال 2025 میں 'انروا' کو اخراجات کے لیے 880 ملین ڈالر کی ضرورت تھی مگر اسے صرف 570 ملین ڈالر مختلف ملکوں سے مل سکے۔

ترجمان نے کہا ہم 2026 میں بھی فنڈنگ میں ایک بڑی کمی دیکھ رہے ہیں۔ اس ہفتے ہمارا تمام تر سٹاف جو غزہ سے تعلق رکھتا ہے متاثر ہوا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ غزہ کا متاثرہ سٹاف پچھلے دس ماہ سے تنخواہوں کے بغیر کام کر رہا ہے۔ اس لیے 'انروا' نہیں توقع کرتا کہ وہ دوبارہ ان حالات میں واپس اپنی ڈیوٹی پر آئیں گے کیونکہ صورتحال کلی طور پر 'انروا' کے کنٹرول میں نہیں رہی ہے۔

'انروا' کے ترجمان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہمارے لیے مالی بحران شدید تر ہے۔ اس لیے یہ فیصلے کرنے پڑے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے اپنے ان 300 کارکنوں کا بھی ذکر کیا جنہیں اسرائیلی فوج نے غزہ کی جنگ کے دوران ہلاک کیا اور کہا کہ اس وقت بھی فلسطینی علاقے میں 'انروا' کے بارہ ہزار کارکن کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل نے 'انروا' پر پابندی لگا رکھی ہے اور 'انروا' اسرائیل میں کام نہیں کر سکتی ہے۔

'انروا' ترجمان نے کہا منگل کا دن بہت مشکل فیصلہ کرنے کا دن تھا۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کرنا پڑا اور یہ اس بڑے معاشی چیلنج کی وجہ سے ہوا جو ہمیں بدنام کرنے کی مسلسل کوشش کا نتیجہ ہے کہ ہماری فنڈنگ میں ڈونرز نے کمی کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں