اسرائیل کی طرف سے خود ساختہ جمہوریہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے خلاف احتجاج کے لیے صومالیہ کے دارالحکومت میں سینکڑوں مظاہرین جمع ہو گئے، صومالی پرچم لہرائے اور قومی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے حب الوطنی کے گیت گائے۔
جمعرات کی رات یہ احتجاج مقدیشو کے مرکز میں واقع تلیح سکوائر پر ہوا جہاں ہجوم نے اسرائیل کے اس اقدام کو مشرقی افریقی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج نعروں میں صومالیہ کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو مسترد کیا گیا تھا۔
اسرائیل نے صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان کیا تھا جس کے دو ہفتے بعد اور اسرائیلی وزیرِ خارجہ کے صومالی لینڈ کے دارالحکومت ہرگیسا کا دورہ کرنے کے دو دن بعد یہ ریلی سامنے آئی ہے۔ اپنے دورے کے موقع پر وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے کہا، اسرائیل جلد ہی ایک سفارت خانہ کھولے گا اور ایک سفیر مقرر کرے گا۔
اسرائیل کی جانب سے 26 دسمبر کو صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بعد سے جمعرات کی رات کا مظاہرہ اس نوعیت کا تیسرا واقعہ تھا۔
احتجاج میں شریک سعید گیدی نے کہا، "ہم اپنے ملک کی تقسیم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ صومالیہ کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ صومالیہ متحد رہے گا۔"
ایک اور شخص عبدالرحمٰن عبدالقادر نے کہا کہ مظاہرے کا مقصد اتحاد کا پیغام دینا تھا۔
انہوں نے کہا، "صومالیہ کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایک مذہب، ایک ثقافت اور ایک ہی ورثے کی بنا پر متحد ہیں۔"
اس مظاہرے کے ساتھ ہی صدر حسن شیخ محمد کا ٹیلی ویژن پر خطاب ہوا جنہوں نے اسرائیل کے فیصلے کو سختی سے مسترد کیا اور موغادیشو میں صومالی لینڈ کے رہنماؤں اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات پر زور دیا۔
"میں دوبارہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جمہوریہ صومالیہ ایک خودمختار اور متحد ملک ہے،" محمد نے کہا۔ "اس کے علاقے کو اسرائیل کے تحریر کردہ یا (اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن) نیتن یاہو کے دستخط شدہ کسی خط کے ذریعے تقسیم یا حوالے نہیں کیا جا سکتا۔"
محمد نے خبردار کیا کہ اگر احتیاط نہ برتی گئی تو تنازعہ صومالیہ کے سیاسی استحکام، اقتصادی بحالی اور ترقی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے صومالی لینڈ کی قیادت پر زور دیا کہ وہ بات چیت کو اپنا مقصد بنائے اور دوسری جگہوں پر کامیاب علیحدگی عموماً سیاسی معاہدوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ انہوں نے جنوبی سوڈان سمیت مثالیں پیش کیں جو 2011 میں سوڈان سے آزاد ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے صومالیہ سے کوئی تاریخی، ثقافتی یا اقتصادی روابط نہیں ہیں۔
سابق برطانوی محافظ ریاست صومالی لینڈ نے 1991 میں مرکزی حکومت کے خاتمے کے بعد صومالیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اپنے اداروں اور استحکام برقرار رکھنے کے باوجود اسے کبھی اقوامِ متحدہ کی کسی رکن ریاست نے تسلیم نہیں کیا۔
مصری وزیرِ خارجہ بدر عبد العاطی نے منگل کو کہا، اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا ایک "خطرناک نظیر ہے جس سے علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرہ ہے۔"
امریکی اور اسرائیلی حکام نے گذشتہ سال دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے غزہ سے فلسطینیوں کو اپنے ہاں لینے کے لیے صومالی لینڈ سے رابطہ کیا تھا جو اس وقت علاقے کی آبادی کو ایک نئی جگہ آباد کرنے کے ٹرمپ منصوبے کا حصہ تھا۔
صومالیہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایسی کسی تجویز پر نہ تو بات ہوئی ہے اور نہ ہی اس پر غور کیا گیا ہے۔
اس کے بعد سے واشنگٹن نے اس منصوبے کو ترک کر دیا ہے اور امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کو تسلیم کرتا ہے "جس میں صومالی لینڈ کا علاقہ شامل ہے۔"