برطانیہ کے شہر برمنگھم کے رہائشیوں میں خوف اور دہشت کے ساتھ شدید بحث ومباحثے کی لہر اُس وقت شروع ہوئی ، جب رات کے وقت آسمان گہرے سرخ رنگ میں تبدیل ہو گیا۔
یہ واقعہ شدید برف باری کے ساتھ پیش آیا، جس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، آمدورفت اور سڑکوں پر مشکلات پیدا ہوئیں اور متعدد سہولیات اور خدمات معطل ہو گئیں۔
برطانوی شہریوں نے تیزی سے ایسی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیں، جن میں لندن کے شمال میں واقع شہر برمنگھم کے آسمان پر چھایا خوفناک گلابی رنگ واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔
اس غیر معمولی منظر کے باعث لوگ یہ سوال کرنے لگے کہ آیا یہ مظہر برطانیہ کو متاثر کرنے والے برفانی طوفان سے جڑا ہے یا نہیں، تاہم جلد ہی واضح ہو گیا کہ یہ کوئی قدرتی مظہر نہیں بلکہ انسان کے بنائے ہوئے مصنوعی روشنیاں تھیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے متعدد تصاویر حاصل کیں جن میں آسمان پر چھایا ہوا یہ رنگ دکھائی دیتا ہے، جو شہر کے بعض علاقوں میں نسبتاً ہلکا تھا، جبکہ برطانیہ کے کسی اور شہر میں یہ منظر دیکھنے میں نہیں آیا۔
برمنگھم کا گلابی آسمان میٹرو برطانوی اخباربرطانوی اخبار ''میٹرو '' (Metro) کی جانب سے شائع کردہ معلومات کے مطابق جن کا جائزہ ''العربیہ ڈاٹ نیٹ'' نے لیا، یہ بات سامنے آئی کہ برمنگھم کے آسمان پر چھانے والا اور شہریوں کو خوفزدہ کرنے والا یہ رنگ دراصل برمنگھم سٹی فٹبال کلب کے اسٹیڈیم سے نکلنے والی روشنیوں کا نتیجہ تھا۔
اخبار کے مطابق اس منظر کی انفرادیت کی وجہ یہ تھی کہ برف کے ذرات اور بادل اسٹیڈیم کی طاقتور لائٹس سے نکلنے والی روشنی کو بکھیر رہے تھے، جس کے باعث وہ پورے شہر کے آسمان میں پھیل گئی۔اسٹیڈیم میں ایل ای ڈی (LED) لائٹس استعمال کی جاتی ہیں تاکہ میدان کی گھاس کو تیزی سے بحال کیا جا سکے، خاص طور پر اُس وقت جب بارش اسے نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔
برمنگھم سٹی فٹبال کلب کا اسٹیڈیم میٹروفضائی تصاویر میں اسٹیڈیم کی روشنیاں اسی وقت چمکتی ہوئی دکھائی دیں، جب لوگوں نے اس عجیب منظر کی تصاویر لینا شروع کیں۔اسٹیڈیم کے قریب لی گئی تصاویر میں آسمان کا گلابی رنگ زیادہ نمایاں اور روشن نظر آتا ہے، جبکہ اس کی شدت کا مرکز اسٹیڈیم کی سمت میں تھا۔برف اور گھنے بادلوں میں موجود ذرات عام موسمی حالات کے مقابلے میں روشنی کو زیادہ منعکس اور منتشر کرتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ زمینی ذرائع سے نکلنے والی روشنی خلا میں جانے کے بجائے واپس زمین کی جانب منعکس ہو جاتی ہے اور مختلف مقامات پر نظر آنے لگتی ہے۔