ٹرمپ ایران پر حملے کے حق میں، وینس روکنے کی کوشش میں مصروف،امریکی ذرائع

وال اسٹریٹ جرنل: ایک ممکنہ منظر نامے کے مطابق پہلے حملہ کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد تہران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا دروازہ کھولا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر فوجی کارروائی کرنے کا جھکاؤ رکھتے ہیں، تاہم وہ ملک کے اندر موجودہ حالات اور اپنے مشیروں کے ساتھ جاری گفتگو کے پیش نظر اپنی رائے پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ممکنہ منظرنامے کے مطابق پہلے حملہ کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد تہران کے ساتھ جوہری پروگرام کے مسئلے پر سنجیدہ مذاکرات کا دروازہ کھولا جائے گا، جیسا کہ وال اسٹریٹ جرنل نے پیر کے روز اطلاع دی ہے۔

دوسری طرف قابل اعتماد ذرائع نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ٹرمپ کو ایران کے ساتھ حملے سے پہلے سفارتی راستے اپنانے کی ترغیب دے رہے ہیں، تاہم وہ فوجی آپشن کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے، کیونکہ ان کے مطابق ایران براہ راست امریکا کے لیے ایک خطرہ ہے۔

ادھر بعض امریکی اہلکار ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی حقیقی نیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ ایرانی قیادت وقت لینے اور امریکی حملوں سے بچنے کی کوشش کر سکتی ہے، جبکہ وہ ملک میں جاری وسیع عوامی احتجاج کے باوجود اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھنا چاہتی ہے۔


طاقت کا استعمال

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے پیر کے روز بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف طاقت استعمال کرنے سے ہچکچائیں گے نہیں، تاہم وہ پھر بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے فوکس نیوز کے پروگرام "امریکا رپورٹس" میں کہا کہ ایران امریکا کے سامنے بالکل مختلف پیغامات دیتا ہے، جو وہ عوامی سطح پر نہیں کہتا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے، انہوں نے کہا: سب کچھ ممکن ہے، اور واضح کیا کہ صدر امریکا فوجی حل سے نہیں ڈرتے۔

پیر کو صدر ٹرمپ نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، کیونکہ ایران میں حکومتی مخالف عوامی احتجاجات کے دوران کریک ڈاؤن کی رپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔

طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا تہران نے پہلے سے مقرر کردہ سرخ لائن عبور کر دی ہے، جو مظاہرین کے قتل سے متعلق تھی،انھوں نے مزید کہا: لگتا ہے وہ یہ کرنا شروع کر چکے ہیں۔صدر نے مزید کہا کہ امریکا اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہےاور کچھ بہت طاقتور آپشنزپر غور کر رہا ہے اور آخرکار فیصلہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں