2025 دنیا بھر میں اب تک کا تیسرا سب سے زیادہ گرم سال
یورپی موسمیاتی ادارے ''کوپرنیکس ''(Copernicus)اور امریکی ادارے ''برکلی ارتھ '' (Berkeley Earth)نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ سال 2025 دنیا بھر میں ریکارڈ پر موجود تیسرا سب سے زیادہ گرم سال رہا، جبکہ توقع ہے کہ 2026 بھی تاریخی طور پر بلند درجۂ حرارت کی سطح پر برقرار رہے گا۔
اپنی سالانہ رپورٹ میں مرصد کوپرنیکس نے نشاندہی کی کہ گزشتہ تین برسوں سے عالمی درجۂ حرارت ایسی سطح پر ہے ،جو انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
اس عرصے کے دوران اوسط عالمی درجۂ حرارت صنعتی انقلاب سے قبل( 1850 ۔1900) کی سطح سے 1اعشاریہ5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔
ایک الگ بیان میں امریکہ کے ادارے برکلی ارتھ کے سائنس دانوں نے کہا کہ 2023 سے 2025 کے درمیان درجۂ حرارت میں تیز اضافہ غیر معمولی تھا اور یہ موسمیاتی حدت میں تیزی سے اضافے کی علامت ہے۔
متعدد ماہرین موسمیات سیاسی رہنماؤں اور اقوامِ متحدہ نے گزشتہ برس سے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عالمی حدت 1اعشاریہ5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد پر برقرار رہے گی، جو 2015 میں دستخط شدہ پیرس معاہدے کے تحت سب سے زیادہ پُرامید ہدف تھا۔چونکہ یہ حد گزشتہ تین برسوں سے عبور ہو چکی ہے، اس لیے کوپرنیکس پروگرام کے مطابق امکان ہے کہ اس دہائی کے اختتام تک اس مستقل حد کے باضابطہ تجاوز کا اعلان کر دیا جائے گا، جو اصل متوقع وقت سے ایک دہائی پہلے ہوگا۔
ایسی کوئی علامت موجود نہیں کہ سال 2026 اس رجحان سے ہٹ کر ہو گا۔کوپرنیکس میں موسمیاتی تبدیلی کے شعبے کی نائب ڈائریکٹر سامنتھا برگس (Samantha Burgess)نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 اب تک کے پانچ گرم ترین برسوں میں شامل ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ 2025 کے برابر ہو۔
اسی طرح برکلی ارتھ کے ماہرینِ موسمیات کا بھی کہنا ہے کہ 2026 غالباً 2025 جیسا ہی ہو گا اور امکان ہے کہ یہ 1850 کے بعد چوتھا سب سے زیادہ گرم سال ثابت ہو۔
مرصد کے موسمیاتی شعبے کے ڈائریکٹر کارلو بونتیمپو (Carlo Buontempo)نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اگر ایل نینو کا مظہر سامنے آیا اور درجۂ حرارت مزید بڑھا تو 2026 ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کر سکتا ہے۔تاہم ان کے بقول چاہے یہ 2026 ہو، 2027 یا 2028 اصل بات یہ ہے کہ سمت بالکل واضح ہے۔
سال 2025 میں زمین اور سمندروں کی سطح کا اوسط درجۂ حرارت صنعتی انقلاب سے قبل کی سطح سے 1اعشاریہ47 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا، جبکہ 2024 میں یہ فرق 1اعشاریہ60 ڈگری تک پہنچ گیا تھا، جو ایک ریکارڈ تھا۔
یہ عالمی اوسط بعض خطوں میں انتہائی بلند درجۂ حرارت کو چھپا لیتا ہے، خاص طور پر وسطی ایشیا، انٹارکٹکا اور ساحلی خطوں میں، جیسا کہ یورپی سروس کے روزانہ ڈیٹا پر مبنی اے ایف پی کے تجزیے سے ظاہر ہوا۔اس طرح 770 ملین افراد نے اپنے ممالک میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہریں محسوس کیں، جیسا کہ برکلی ارتھ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے۔
اسی دوران 2025 میں کہیں بھی ریکارڈ کم درجۂ حرارت درج نہیں کیا گیا۔سال 2025 کے دوران دنیا نے شدید موسمی مظاہر بھی دیکھے، جن میں یورپ، ایشیا اور شمالی امریکا میں گرمی کی لہریں، طوفان اور شدید آندھیاں شامل ہیں، جبکہ اسپین، کینیڈا اور کیلیفورنیا میں تباہ کن جنگلاتی آگ کے واقعات بھی پیش آئے، جن کی شدت اور تعداد عالمی حدت کے باعث بڑھ گئی۔