امریکہ میں الزائمر کے مریضوں کو دی جانے والی خطرناک دماغی ادویات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اگرچہ کئی سالوں سے طبی انتباہات اور کلینیکل ہدایات جاری کی گئی ہیں، لیکن امریکہ میں ہر چار میں سے ایک بزرگ جو الزائمر یا دیگر دماغی کمزوریوں کا شکار ہیں، وہ ایسی ادویات لے رہے ہیں ،جو دماغ پر اثر ڈالتی ہیں۔

یہ ادویات گرنے، ذہنی الجھن اور ہسپتال میں داخلے کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں، جیسا کہ حال ہی میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس (UCLA) کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے۔

تحقیق جو JAMA جریدے میں شائع ہوئی، اس کے مطابق تقریباً 25 فیصد ''میڈیکیئر'' پروگرام کے صارفین جو الزائمر میں مبتلا ہیں، انہیں مرکزی اعصابی نظام پر اثر ڈالنے والی ادویات تجویز کی گئی ہیں، حالانکہ یہ گروپ سب سے زیادہ خطرناک ضمنی اثرات کا شکار ہوتا ہے۔

اعداد و شمار سے پتہ چلا کہ 2013 میں تمام میڈیکیئر بزرگوں میں ان ادویات کے تجویز کرنے کی شرح 20فیصد تھی جو 2021 تک کم ہو کر 16فیصد ہو گئی۔تاہم یہ بہتری خاص طور پر دماغی کمزوری یا الزائمر کے مریضوں پر اتنی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر جون مافی جو اس تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں داخلی طب کے پروفیسر ہیں، نے کہا کہ:مطالعے کے اختتام تک جن مریضوں کو یہ ادویات دی گئی، ان میں سے دو تہائی سے زیادہ کے لیے کوئی مستند طبی جواز موجود نہیں تھا۔انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ صورتحال غیر مناسب اور ممکنہ طور پر نقصان دہ نسخوں کی تشویشناک سطح کو ظاہر کرتی ہے۔

دماغی الجھن اور گرنے سے جڑی ادویات

اس مطالعے میں پانچ اہم قسم کی ادویات شامل تھیں ،جو مرکزی اعصابی نظام پر اثر ڈالتی ہیں:
بینزودیازپائن (Benzodiazepines) قسم کے سکون آور
غیر بینزودیازپائن نیند کی دوائیں
اینٹی سائیکوٹک ادویات (Antipsychotics)
اینٹی ڈپریسنٹس جو کولی نرجک اثرات رکھتی ہیں
باربیچوریٹس (Barbiturates)
نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ ادویات تقریباً:
17فیصد بزرگوں میں تجویز کی گئیں، جن کی ذہنی صلاحیت معمول کے مطابق تھی۔
22 فیصد بزرگوں میں جو دماغی کمزوری رکھتے تھے لیکن الزائمر یا خرف نہیں تھا۔
25 فیصد مریضوں میں جو الزائمر یا خرف کا شکار تھے۔

اگرچہ گزشتہ برسوں میں بعض ادویات جیسے بینزودیازپائن اور نیند کی دواؤں کے نسخے کم ہوئے ہیں، لیکن اینٹی سائیکوٹک ادویات کے نسخے میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ماہرین کے لیے تشویش کی بات ہے کیونکہ یہ مریضوں میں موت کی شرح اور پیچیدگیوں کو بڑھا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر اینی یانگ اس مطالعے کی شریک محقق نے خبردار کیا کہ یہ ادویات صرف محدود اور مخصوص حالات میں ضروری ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاج کی باقاعدہ جانچ اور نظرثانی ضروری ہے اور جہاں ممکن ہو غیر دوائی والے متبادل یا آہستہ آہستہ خوراک میں کمی اختیار کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مریض یا ان کے دیکھ بھال کرنے والے افراد کو ڈاکٹر کے ساتھ مل کر یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ممکنہ فوائد خطرات سے زیادہ ہیں یا نہیں، خاص طور پر ان بزرگوں میں جو ذہنی کمزوری یا خرف کا شکار ہیں۔

محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دماغی صلاحیتوں میں کمی یا ذہنی کمزوری کے مریضوں کی دیکھ بھال میں ادویات کے غیر ضروری نسخوں کو کم کرنا اور ان کے خطرات کے بارے میں آگاہی بڑھانا انتہائی ضروری ہے تاکہ لاکھوں بزرگ مریضوں کی صحت اور حفاظت بہتر ہو سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں