ٹرمپ کو ایران میں رضا پہلوی کے عوامی حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت پر شبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایرانی حزبِ اختلاف کے رہنما رضا پہلوی “خاصے خوش اخلاق نظر آتے ہیں”، تاہم انہوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا رضا پہلوی ایران کے اندر اقتدار سنبھالنے کے لیے عوامی حمایت حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔

اوول آفس میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے یوکرین کی جنگ کے حوالے سے روس کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کو قرار دیا۔ انھوں نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاؤل کے خلاف امریکی محکمہ انصاف کی تحقیقات پر ریپبلکن تنقید کو بھی مسترد کر دیا۔

ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران میں مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں، جہاں رپورٹس کے مطابق احتجاجات کو کچلنے کی کارروائیوں میں سیکڑوں افراد مارے گئے۔ تاہم بدھ کے روز انہوں نے رضا پہلوی کی مکمل حمایت کا اعلان کرنے سے گریز کیا۔ رضا پہلوی ایران کے معزول شاہ کے بیٹے ہیں، جنہیں 1979 کے انقلاب میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے رضا پہلوی کے بارے میں کہا “وہ بہت اچھے انسان لگتے ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنے ملک میں کس طرح عمل کریں گے۔ ہم ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچے۔”

انہوں نے مزید کہا “مجھے نہیں معلوم کہ ان کے لوگ ان کی قیادت کو قبول کریں گے یا نہیں، لیکن اگر وہ قبول کر لیں تو میرے لیے یہ قابل قبول ہو گا۔”

ٹرمپ نے رضا پہلوی کی ایران کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت پر بھی شکوک ظاہر کیے اور یاد دلایا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ رضا پہلوی سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے۔

رضا پہلوی، جو اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں اور جن کی عمر 65 سال ہے، اپنے والد کی 1979 کی اسلامی انقلاب میں معزولی سے بھی پہلے ایران سے باہر رہ رہے ہیں۔ وہ حالیہ احتجاجات کے حق میں ایک نمایاں آواز بن چکے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ احتجاجات کے باعث تہران میں حکومت گرنے کا امکان موجود ہے، تاہم ان کے مطابق “حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی نظام ناکام ہو سکتا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا “چاہے نظام گرے یا نہ گرے، یہ ایک دل چسپ دور ہو گا۔”

ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت کا پہلا سال مکمل کرنے والے ہیں۔ انٹرویو کے دوران وہ اپنے بڑے دفتر میں بیٹھے تھے اور ایک سافٹ ڈرنک پی رہے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے کاغذات کی ایک موٹی فائل اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس میں 20 جنوری 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد کی ان کی کامیابیاں درج ہیں۔

نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ عام طور پر اقتدار میں موجود جماعت صدارتی انتخابات کے دو سال بعد نشستیں کھو دیتی ہے۔

انہوں نے کہا “جب آپ صدارت جیتتے ہیں تو عموما وسط مدتی انتخابات نہیں جیت پاتے، لیکن ہم پوری کوشش کریں گے کہ یہ انتخابات جیتیں۔”

زیلنسکی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

ٹرمپ جو گذشتہ سال صدارت سنبھالنے کے بعد سے یوکرین میں روس کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ولودی میر زیلنسکی اس چار سالہ جنگ کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ یہ جنگ ایک دن میں ختم کر سکتے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ ماضی میں روسی صدر ولادی میر پوتین اور زیلنسکی دونوں پر تنقید کر چکے ہیں، تاہم اس بار ان کی مایوسی زیادہ تر یوکرینی صدر کے حوالے سے نظر آئی۔

ٹرمپ نے کہا کہ پوتین “معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں”۔ جب ان سے تاخیر کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے مختصر جواب دیا "زیلنسکی".

انہوں نے مزید کہا “ہمیں صدر زیلنسکی کو اس پر آمادہ کرنا ہو گا۔”

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں