سویٹزرلینڈ کے خوبصورت شہر ڈاؤوس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں تقریباً 3 ہزار اعلیٰ سطح کے عہدیدار، جن میں کاروباری شخصیات، حکومتوں کے نمائندے اور دیگر شعبوں کے اہم افراد کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں صحافی، سماجی کارکن اور مبصرین شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
سویٹزرلینڈ کے چھوٹے مگر دلکش سیاحتی قصبے ڈاؤوس میں یہ فورم پہلی بار 1971 میں منعقد ہوا، جو اپنی شاندار سکیئنگ کے لیے مشہور ہے، یہاں کی آبادی تقریباً 10 ہزار ہے اور یہ الپس کے مشرقی پہاڑوں میں 1500 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔
تب سے یہ اجلاس عالمی سطح پر ایک اہم موقع بن چکا ہے۔شروع میں اس اجلاس کی میزبانی کلاؤس شواب نے کی اور یہ محض کاروباری کمپنیوں کے سربراہان کا اجتماع تھا۔لیکن وقت کے ساتھ یہ اجلاس ایک جامع کانفرنس اور عالمی فورم میں تبدیل ہو گیا ہے، جو مختلف موضوعات جیسے:معاشی عدم مساوات،موسمیاتی تبدیلی ،ٹیکنالوجی،بین الاقوامی تعاون کے ساتھ ساتھ مسابقت اور تنازعات پر بھی تبادلہ خیال کرتا ہے۔
اس سال 19 جنوری سے 23 جنوری تک تقریباً 200 سے زائد سیشنز منعقد ہوں گے، جن میں مختلف موضوعات پر گفتگو کی جائے گی، جیسا کہ اسوشیئیٹڈ پریس نے اطلاع دی ہے۔
کون شرکت کرے گا؟
اس سال منتظمین کے مطابق تقریباً 400 اعلیٰ سیاسی رہنما شرکت کریں گے، جس میں 60 سے زائد سربراہانِ ریاست اور حکومت شامل ہیں، اس کے علاوہ 850 کے قریب بورڈ چیئرپرسن اور عالمی بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو بھی موجود ہوں گے۔
فہرست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سر فہرست ہیں، جو بدھ کے روز خطاب کریں گے، ان کے ساتھ ان کی انتظامیہ کے چند وزراء اور اعلیٰ عہدیدار بھی شریک ہوں گے، جن میں وزیرِ خارجہ مارکو روبیو،وزیر خزانہ سکات بسنٹ ،خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوفدافوس شامل ہوں گے ۔
مزید توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرکت کریں گے:فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون،یورپی کمیشن کی صدر اورسولا فون ڈیر لایین ،شامی صدر احمد الشرع ،کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی ،کانگو کے صدر فیلیکس چیسیکیدی ،چینی نائب وزیرِ اعظم ہی لیفینگ،یوکرائن کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور دیگر متعدد اہم شخصیات کی آمد بھی متوقع ہے۔ منتظمین نے مزید بتایا کہ اجلاس میں 55 وزیر برائے معیشت اور مالیات,33 وزراء برائے خارجہ,34 وزراء برائے تجارت اور صنعت11 مرکزی بینک کے گورنرشامل ہوں گے۔
ٹیکنالوجی اور صنعت کی دیو ہیکل شخصیات
اس اجلاس میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے جن سین ہوانگ (NVIDIA)،ساتیا نڈیلا (Microsoft)،دیمیس ہسابیس (Google DeepMind)،آرثر مانش (میسترا AIفرانس)شریک ہوں گے ۔
اس کے علاوہ اجلاس میںمارک روٹے، نیٹو کے سیکریٹری جنرلنگوزی اوکونجو-ایویالا، عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کی جنرل ڈائریکٹراور متعدد دیگر اعلیٰ عہدیدار عالمی اداروں سے شرکت کریں گے۔
اس سال کا منفرد پہلو
اس سال کے ڈاؤوس فورم کے ماحول میں کچھ مختلف خصوصیات دیکھی جا رہی ہیں۔ عالمی سیاسی منظرنامہ کافی پیچیدہ ہو گیا ہے، جس کی ایک وجہ امریکی صدر کے بیانات اور پالیسیز ہیں، جو مختلف امور جیسے وینزویلا، گرین لینڈ، ایران اور کسٹم/ٹیکس پالیسیاں پر اثرانداز ہوئی ہیں، جس سے عالمی نظام میں اتھل پتھل اور امریکہ کے کردار پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی اہمیت اور اس کے امکانات و خطرات بھی اس سال کے فورم کا اہم موضوع ہے۔ اجلاس میں:اعلیٰ انتظامی شخصیات AI کے ذریعے پیداوار اور منافع بڑھانے کے طریقے زیر بحث لائیں گی۔ سماجی کارکن اور یونین رہنما اس کے ممکنہ خطرات جیسے ملازمتوں اور روزگار کے مواقع پر اثرات سے آگاہ کریں گے۔پالیسی ساز تنظیم اور جدت کے حق کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔
ڈاؤوس کے منتظمین ہر سال ایک نیا نعرہ پیش کرتے ہیں اور اس سال کا نعرہ ہے:''روحِ مکالمہ'' جو پانچ محوروں پر مبنی ہے:
تعاو ن، تر قی ،انسانی سرمایہ کاری ،جد ت،خوشحالی کی تعمیردوسری جانب۔ کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈاؤوس اب بھی زیادہ باتیں کرتا ہے اور عملی اقدامات کم دکھاتا ہے، خاص طور پر عالمی دولت کے فرق کو کم کرنے اور موسمی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں۔