اہرام مصر کی تعمیر کیسے ہوئی؟ نیا نظریہ سامنے آگیا

ہرم کو اندر سے باہر کی طرف متوازن وزن اور پلوں جیسے میکانزم کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

گیزہ کے عظیم ہرم کی تعمیر ہمیشہ سے انسانی تہذیب کے سب سے پیچیدہ رازوں میں سے ایک رہی ہے۔ قدیم نصوص کی عدم موجودگی میں اس حوالے سے نظریہ پیش کیا جاتا رہا ہے کہ ہرم کے دیو ہیکل پتھر کے ٹکڑوں کو کیسے اٹھایا گیا اور اتنی تیزی سے کیسے جوڑا گیا خاص طور پر جب ان میں سے ہر ایک کا وزن دسیوں ٹن تھا۔

روایتی نظریات کے مطابق سائنسدانوں نے سالوں تک یہ فرض کیا کہ معماروں نے بیرونی ڈھلوانوں کا استعمال کیا اور ٹکڑوں کو ایک تہہ کے بعد دوسری تہہ کرکے اٹھایا جو ایک وقت طلب طریقہ ہے اور یہ نہیں بتاتا کہ ہرم صرف دو دہائیوں میں کیسے تعمیر کیا گیا۔

اس حوالے سے اب "ڈیلی میل" اخبار نے ایک نئی تحقیق شائع کی جس میں ایک بالکل مختلف نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق ہرم کو اندر سے باہر کی طرف متوازن وزن اور پلوں جیسے میکانزم کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا۔ یہ میکانزم ڈھانچے کے اندر چھپے ہوئے تھے۔

نیویارک میں وائل کارنیل میڈیکل کالج کے ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ نے جریدے "نیچر" میں شائع ہونے والی تحقیق میں وضاحت کی ہے کہ یہ اندرونی نظام معماروں کو بھاری ٹکڑوں کو حیرت انگیز رفتار سے اٹھانے اور رکھنے کی اجازت دیتا تھا۔ بعض اوقات ایک منٹ میں ایک ٹکڑا بغیر زبردستی کھینچنے کی ضرورت کے اٹھا لیا جاتا تھا۔

اندرونی نظام کا طریقہ کار

یہ نظام اندرونی ڈھلوان راہداریوں کے ساتھ حرکت کرنے والے متوازن وزن کا استعمال کرتا ہے جو ٹکڑوں کو ہرم کی اوپری سطحوں تک اٹھانے کے لیے کافی طاقت پیدا کرتا ہے۔ ہرم کی اندرونی تعمیراتی خصوصیات، جیسا کہ عظیم گیلری اور چڑھنے والی راہداری، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ اندرونی ڈھلوانوں کے طور پر کام کرتی تھیں جن پر مطلوبہ طاقت پیدا کرنے کے لیے وزن گرایا جاتا تھا۔

سامنے کا کمرہ، جو بادشاہ کے چیمبر سے پہلے ایک چھوٹا گرینائٹ کمرہ تھا، روایتی طور پر چوریوں کو روکنے کے لیے ایک حفاظتی خصوصیت سمجھا جاتا تھا لیکن تحقیق نے اسے ایک ایسے پل جیسے میکانزم کے طور پر دوبارہ تعبیر کیا ہے جہاں کھدائی اور پتھر کے سہارے رسیاں اور لکڑی کے بیم کو پتھروں کو اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

شورنگ کی تجویز کردہ تعمیر نو کے مطابق یہ نظام کارکنوں کو 60 ٹن تک کے پتھروں کو اٹھانے کی اجازت دیتا تھا اور ضرورت کے مطابق طاقت کو ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے جدید مشینوں میں گیئرز کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ تحقیق کی بنیاد بننے والے میدانی شواہد میں سے یہ بھی ہے کہ اندرونی راہداریوں کی دیواروں پر خراشوں اور گھساؤ کے نشانات بھاری سلیجوں کے گزرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ نشانات انسانی حرکت یا رسمی رسومات کے نہیں ہیں۔

نئی تحقیق نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سامنے کے کمرے میں ناہموار فرش اور خراشیں ایک عمودی ستون کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں جو نظام سے منسلک تھا اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسے بند کر دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ چیمبروں کی جگہ میں کچھ انحراف، جیسے ملکہ کا چیمبر جو ہرم کے بالکل مرکز میں نہیں ہے، اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ ڈیزائن نے اندرونی نظام کی میکانیکی رکاوٹوں کا خیال رکھا، نہ کہ صرف جمالیاتی توازن کا۔ یہاں تک کہ بیرونی ڈھانچے کی خصوصیات، جیسے ہرم کے چہروں کی ہلکی سی گہرائی اور پتھروں کی تہوں کا درجہ بندی، یہ ظاہر کر سکتی ہیں کہ تعمیر کے دوران اندرونی ڈھلوانیں اور اٹھانے کے مقامات کیسے حرکت کرتے تھے۔ اس دوران اوپری سطحوں میں پتھروں کا وزن کم ہوتا تھا۔

تحقیق کی اہمیت

شورنگ کا ماڈل قابل آزمائش پیشین گوئیاں پیش کرتا ہے، جیسے کہ ہرم کے قلب میں بڑی چھپی ہوئی چیمبروں کی عدم موجودگی کا امکان، جس کی حمایت میون شعاعوں کا استعمال کرتے ہوئے جدید سروے کرتے ہیں۔ تاہم ڈھانچے کی اوپری سطحوں میں چھوٹے راہداریاں یا اندرونی ڈھلوانوں کے باقیات رہ سکتے ہیں۔ اگر یہ مفروضہ ثابت ہو جاتا ہے تو یہ آثار قدیمہ کے ماہرین کی ہرم اعظم اور شاید قدیم مصر کے تمام اہراموں کی تعمیر کے طریقے کے بارے میں سمجھ کو دوبارہ تشکیل دے گا۔ واضح رہے خوفو کا عظیم ہرم فرعون خوفو کے مقبرے کے طور پر تقریباً 2560 قبل مسیح میں، یعنی تقریباً 4585 سال پہلے تعمیر کیا گیا تھا اور یہ گیزہ کے اہرام میں سب سے بڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size