یورپ کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسےآئے ہیں، جنہوں نے پورے خطے کا رخ بدل دیا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد معاہدۂ ورسائی انہی فیصلہ کن موڑوں میں سے ایک تھا، جس کے نتیجے میں پولینڈ تقریباً 123 برس بعد دوبارہ دنیا کے نقشے پر ابھرا اور ایک نئی مگر پیچیدہ سیاسی حقیقت نے جنم لیا۔
اس معاہدے کے نتیجے میں پولینڈ کو وہ علاقے واپس ملے جو اس سے قبل بنیادی طور پر جرمنی، آسٹریا اور روس کے زیرِ اقتدار تھے اور یوں وہ دوبارہ یورپ کے نقشے پر نمایاں ہو گیا۔بحالی کے فوراً بعد پولینڈ کو ایک بڑی جنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس میں وہ روس میں اقتدار پر قابض ہونے والے بالشویکوں کے آمنے سامنے آ گیا۔
یہ پولش-سوویت جنگ 1922ء تک جاری رہی، جس کے بعد پولینڈ نے ماسکو کے ساتھ معاہدۂ ریگا پر دستخط کیے، جس کے ذریعے اس کی سرحدوں کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا گیا۔
اگلے برسوں میں بھی پولینڈ کو اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ متعدد سرحدی بحرانوں کا سامنا رہا، جن میں نمایاں تنازعات لیتھوانیا اور چیکوسلواکیہ (سابقہ) کے ساتھ تھے۔
پولینڈ اور لیتھوانیا کے درمیان دشمنی
1920ء میں پولینڈ کی فوج نے ولنیئس (Vilnius) شہر میں داخل ہو کر اس پر قبضہ کر لیا، جس پر لیتھوانیا میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ اس دور میں لیتھوانیا ولنیئس کو اپنا تاریخی دارالحکومت قرار دیتا تھا اور پولینڈ کی جانب سے اس پر قبضے کی کوشش کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر لیتھوانیا نے اپنا دارالحکومت کاؤناس (Kaunas) منتقل کر لیا اور آئندہ کئی برسوں تک پولینڈ سے ولنیئس کی واپسی کا مطالبہ کرتا رہا۔ پولینڈ کے انکار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دشمنی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
یورپ میں حالات کے قدرے مستحکم ہونے کے ساتھ ہی لیتھوانیا نے پولینڈ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات قائم کرنے سے انکار کر دیا اور ماضی کو بھلانے کے لیے ولنیئس کی واپسی کو بنیادی شرط قرار دیا۔
لیتھوانیا کے تعلیمی نصاب میں پولینڈ کو ایک قابض ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، جبکہ دوسری جانب پولینڈ میں لیتھوانیا کو مستقل دشمن سمجھا جاتا تھا۔یہ کشیدگی اور سفارتی قطع تعلق 1938ء تک جاری رہی، جس کے بعد یورپ میں جرمنی کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں اور جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں حالات میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔
یورپ میں کشیدگی
1938ء کے دوران جرمنی نے ماہِ مارچ میں آسٹریا میں فوجی مداخلت کی، جسے تاریخ میں آنشلوس (Anschluss) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کارروائی کے دوران جرمن فوجیوں کا آسٹریا میں پُرجوش خیرمقدم کیا گیا، جبکہ ایڈولف ہٹلر نے بغیر کسی خونریزی کے آسٹریا کو جرمنی میں ضم کر لیا۔
آسٹریا پر جرمن قبضے نے برطانیہ اور فرانس میں شدید تشویش پیدا کر دی، کیونکہ دونوں ممالک کو نازی رہنما ہٹلر کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا خوف لاحق ہو گیا تھا۔
اسی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پولینڈ نے لیتھوانیا کی سرحد پر اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ اس واقعے کی بنیاد پر پولینڈ نے 17 مارچ 1938ء کو لیتھوانیا کو باضابطہ مراسلہ بھیجا اور ایک آخری انتباہ جاری کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے اور ولنیئس پر پولینڈ کی خودمختاری تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
پولینڈ نے لیتھوانیا کو اس تجویز پر مثبت جواب دینے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی، بصورتِ دیگر فوجی مداخلت کی دھمکی دی گئی۔
اس دوران برطانیہ اور فرانس نے ایک اور یورپی جنگ سے بچنے کی امید میں مداخلت سے گریز کیا، جبکہ جرمنی اور سابق سوویت یونین نے بھی اس معاملے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
ان حالات میں پولینڈ کی فوجی برتری کے باعث لیتھوانیا نے پولینڈ کے مطالبات تسلیم کر لیے۔یوں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو گئے، اگرچہ لیتھوانیا نے ولنیئس سے دستبرداری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
یہ واقعات اس بات کا ثبوت بنے کہ یورپ کی ایک نازک تاریخی گھڑی میں برطانیہ اور فرانس تنازعات کے حل میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔
بعد ازاں چند ہی مہینوں کے اندر ستمبر 1939ء کے آغاز میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ اس کے چند دن بعد سوویت افواج نے پولینڈ کے مشرقی حصے میں پیش قدمی کی اور لیتھوانیا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت ولنیئس لیتھوانیا کو واپس کر دیا گیا، جبکہ اس کے بدلے سوویت فوجیوں کو لیتھوانیائی سرزمین پر موجودگی کی اجازت دی گئی۔