ٹرمپ کے افغانستان میں نیٹو سے متعلق بیان توہین آمیز اور معذرت کے متقاضی ہے: اسٹامر

افغانستان میں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ جانی نقصان برطانیہ کا ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹامر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں نیٹو افواج کے اگلے مورچوں سے دور رہنے کا ذکر کیا تھا۔ اسٹامر نے جمعے کے روز اس تبصرے کو "تذلیل آمیز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو اس پر معذرت کرنی چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں 20 سالہ افغان جنگ کے دوران نیٹو اتحادیوں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو "کبھی ان کی ضرورت نہیں تھی" اور یہ کہ اتحادی افواج اگلے مورچوں سے فاصلے پر رہیں۔

اسٹامر نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "میں صدر ٹرمپ کے بیان کو توہین آمیز اور حیران کن سمجھتا ہوں۔ مجھے اس بات پر کوئی حیرت نہیں کہ اس بیان سے ان لوگوں کے پیاروں کو شدید دکھ پہنچا ہے جو اس جنگ میں ہلاک یا زخمی ہوئے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان سے ایسی غلطی ہوتی تو وہ یقیناً معذرت کرتے۔

برطانوی وزیر اعظم نے افغانستان میں جان گنوانے والے 457 برطانوی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی بہادری اور قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ جانی نقصان برطانیہ نے اٹھایا۔ 2001 سے 2021 کے درمیان ڈیڑھ لاکھ سے زائد برطانوی فوجی وہاں تعینات رہے، جن میں شاہ چارلس کے چھوٹے بیٹے پرنس ہیری بھی شامل تھے۔

پرنس ہیری نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ہزاروں زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئیں اور یہ قربانیاں سچائی اور احترام کے ساتھ یاد رکھے جانے کے قابل ہیں۔ دوسری طرف برطانوی اپوزیشن لیڈر کیمی بڈینوک نے ٹرمپ کے تبصرے کو "شرم ناک اور غلط" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نیٹو کمزور ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ٹرمپ کے حامی نائجل فاریج نے بھی اسے غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج 20 سال تک امریکیوں کے شانہ بشانہ بہادری سے لڑیں۔

افغانستان میں دیگر اتحادیوں میں کینیڈا نے 158، فرانس نے 89 اور ڈنمارک نے 44 فوجی کھوئے۔ فرانسیسی وزیر دفاع نے بھی ان قربانیوں کو قابل احترام قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کے موقف کی نفی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں