برطانیہ کے ایک وزیر نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو لغو قرار دیا ہے کہ نیٹو فورس کے سپاہی افغانستان کے محاذ کے خط اول پر لڑنے میں ناکام رہے۔ امریکی صدر کے اس بیان پر برطانیہ میں سخت غم و غصہ سامنے آیا ہے۔
یاد رہے صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز 'فاکس نیوز' کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا کے ایک ملک میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد لڑائی کے دوران برطانیہ کے 457 فوجی مارے گئے اور وہ کچھ بھی دیر کے لیے خط اول پر ٹھہر نہ سکے۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اپنی اس تجویز کا بھی اعادہ کیا کہ نیٹو کے سپاہیوں کو امریکی پکار پر مدد کے لیے نہیں آنا چاہیے۔ وہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے میں نیٹو کے رکن ممالک کے فوجیوں کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ جن میں برطانوی سپاہی بھی شامل تھے۔ جبکہ دیگر نیٹو ارکان جن کے فوجیوں نے افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا ان میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک کے علاہ بعض کئی ملکوں کے سپاہی تھے جو ہلاک ہوئے۔
برطانوی وزیر سٹیفن کننوک نے توقع ظاہر کی ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس غیر ذمہ دارانہ انٹرویو کے بارے میں وزیر اعظم کیر سٹارمر ان سے ضرور بات کریں گے۔
برطانوی وزیر نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ وہ ضرور بات کریں گے اور یہ معاملہ صدر ٹرمپ کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ کیونکہ وزیر اعظم اپنی مسلح افواج پر فخر کرتے ہیں اور وہ صدر ٹرمپ کو اس سلسلے میں ضرور بتائیں گے۔ صدر ٹرمپ کے خیالات بالکل غلط ہیں اور سخت مایوس کن ہیں۔
انہوں نے 'سکائی نیوز' کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے اس امر کا اظہار نہیں کیا کہ جب نائن الیون کے بعد امریکہ کو افغانستان میں نیٹو کے آرٹیکل پانچ کی ضرورت پڑی تو اسے بروئے کار لایا گیا اور بہت سے برطانوی فوجی اور یورپ کے دوسرے نیٹو رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے فوجیوں نے بڑی تعداد میں امریکی مدد کے لیے اپنی جانیں دیں۔
یہ افغانستان میں امریکی مشن تھا جس کی امریکہ ہی قیادت کر رہا تھا۔ جیسا کہ افغانستان کے علاوہ عراق میں بھی تھا۔
لیوسی ایلڈریج جن کا 18 سالہ بیٹا ولیم افغانستان میں امریکہ کی مدد کے دوران لڑتے ہوئے ہلاک ہوا تھا نے اخبار 'دی مرر' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے اس تبصرے نے مجھے سخت پریشان کیا ہے۔
ایملی تھرون بیری برطانوی پارلیمان میں فارن افیئرز کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا ان کا یہ بیان ایک غلطی سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ مکمل طور پر ہماری توہین ہے اور ان 457 خاندانوں کی توہین ہے جن کے پیارے افغانستان میں کھو گئے تھے۔ وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے لوگ افغانستان میں خط اول پر نہیں تھے۔ لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان نے یہ بات 'بی بی سی' کے ایک پروگرام میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔
برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 457 میں سے 450 برطانوی سپاہی افغانستان میں ایک بڑی فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ امریکہ کے 2400 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے۔