برطانیہ کا نئی 'برطانوی ایف بی آئی' پولیس سروس تشکیل دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانیہ کی حکومت نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ پولیسنگ کو جدید بنانے اور دہشت گردی، دھوکہ دہی، منظم جرائم اور دیگر پیچیدہ مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئی نیشنل پولیس سروس بنائے گی جسے "برطانوی ایف بی آئی" کا نام دیا گیا ہے۔

یہ نیا ادارہ نیشنل کرائم ایجنسی کے کام کو یکجا کرے گا جو انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل روڈ پولیسنگ جیسے دیگر ملک گیر امور کے ساتھ

منشیات کی سمگلنگ اور انسانی سمگلنگ جیسے سنگین منظم جرائم کی تحقیقات کرتی ہے۔

تقرری کے بعد اس کا سربراہ - نیشنل کرائم کمشنر - ملک کا سینئر ترین افسر ہو گا۔ فی الحال لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کا سربراہ برطانیہ کا قانون نافذ کرنے والا اعلیٰ ترین اہلکار ہوتا ہے۔

حکومت پیر کو جن بڑی پولیس اصلاحات کی نقاب کشائی کرنے والی ہے، نیشنل پولیس سروس کی تشکیل ان کا حصہ ہو گی جنہیں وہ 1829 میں رابرٹ پیل کی جانب سے اولین پیشہ ورانہ فورس کے قیام کے بعد سے پولیسنگ میں ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی قرار دے رہی ہے۔

"پولیسنگ کا موجودہ ماڈل ایک مختلف صدی کے لیے بنایا گیا تھا،" سکریٹری داخلہ شبانہ محمود نے ایک بیان میں کہا۔

اسے امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن سے تشبیہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہم ایک نئی قومی پولیس سروس بنائیں گے - جسے 'برطانوی ایف بی آئی' کا نام دیا جائے گا - جس میں خطرناک مجرموں کا سراغ لگانے اور انہیں پکڑنے کے لیے عالمی معیار کے ہنر اور جدید ترین ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جائے گی۔"

انگلینڈ اور ویلز میں اس وقت 43 مقامی پولیس فورسز ہیں جن میں سے بعض کا کردار قومی سطح کا ہے جیسے لندن پولیس جو انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ دار ہے۔

محمود نے کہا کہ اس تبدیلی سے مقامی قوتوں کا روزمرہ کے جرائم سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرنا ممکن ہو گا مثلاً دکانوں سے سامان چرانا اور غیر سماجی رویے اور مجرموں کو ان ہی کے علاقوں میں پکڑنا۔

یہ بھی توقع ہے کہ پیر کو جن تبدیلیوں کا اعلان ہونا ہے، ان ہی کے تحت حکومت برطانیہ میں فورسز کی مجموعی تعداد میں کمی کرے گی تاکہ پیسے کی بچت اور جرائم کو کم کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں