انڈونیشیا کے مغربی جاوا میں مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی

یہ سانحہ شدید طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انڈونیشیا کے مغربی صوبے جاوا میں ہفتے کے آخر میں مٹی کے تودے گرنے سے ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر پیر کو ‍17 ہو گئی جبکہ درجنوں ہنوز لاپتہ ہیں، ملک کی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی نے کہا۔

ہفتے کے اوائل میں بنڈونگ بارات میں ایک رہائشی علاقے میں مٹی کے تودے گرنے کی وجہ ایک دن پہلے شروع ہونے والی موسلادھار بارشیں تھیں جن کے بارے میں موسمیاتی ایجنسی نے خبردار کیا کہ یہ صوبے اور دیگر کئی علاقوں میں مزید ایک ہفتے تک جاری رہ سکتی ہیں۔

متأثرہ گاؤں پسیر لنگو انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے تقریباً 100 کلومیٹر (60 میل) جنوب مشرق میں صوبے کے ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ ایجنسی نے بتایا کہ تودے گرنے سے 30 سے زیادہ مکانات مٹی میں دب گئے۔

ایجنسی کے ترجمان عبدالمہاری نے پیر کو رائٹرز کو بتایا ہے کہ کم از کم 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 73 تاحال لاپتہ ہیں۔

انڈونیشیا کی بحریہ کے سربراہ محمد علی نے پیر کو بتایا کہ پھنسے ہوئے افراد میں بحریہ کے 23 افسران بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ مٹی کے تودے گرنے کے وقت اہلکار سرحدی گشت کی تربیت میں شامل تھے اور مزید بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے بھاری سازوسامان ڈیزاسٹر زون تک پہنچنے کے قابل نہیں تھا۔

ایجنسی نے اتوار کو کہا کہ خراب موسم کے ساتھ کم شدت کے تودے گرنے سے بھی تلاش میں رکاوٹ آئی جس کے لیے ڈرون اور بھاری آلات کی ضرورت ہے۔

گذشتہ ہفتے انڈونیشیا کے مغربی جاوا اور جکارتہ سمیت کئی علاقوں میں شدید سیلاب نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں رہائشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر بلند مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔

سمندری طوفان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے دو ماہ بعد تودے گرنے کا وقعہ ہوا ہے اور جزیرہ سماٹرا میں اس کے نتیجے میں 1,200 افراد ہلاک، مکانات تباہ اور 10 لاکھ سے زیادہ رہائشی بے گھر ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں