انڈونیشیا میں مٹی کا تودہ گرنے سے 8 افراد ہلاک، 80 سے زائد لاپتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قدرتی آفت نے ہفتے کے روز مغربی انڈونیشیا میں اچانک تباہی مچا دی، جب پہاڑی ڈھلوانیں لمحوں میں قبرستان میں بدل گئیں۔ شدید بارشوں کے بعد مٹی کے تودے کھسکنے سے کم از کم آٹھ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، جبکہ 80 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ملبے تلے دبے گھروں، بکھری زندگیوں اور خوف زدہ چہروں کے درمیان امدادی ٹیمیں وقت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں اور ہر گزرتا لمحہ امید اور بے یقینی کے درمیان معلق ہے۔

قومی ادارہ برائے انسدادِ آفات کے ایک ترجمان کے مطابق مغربی جاوا کے ضلع مغربی باندونگ میں ہفتے کی صبح سویرے مٹی کا تودہ گرا، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جان سے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہفتے کی صبح 10 بج کر 30 منٹ تک 83 افراد اب بھی لاپتا تھے۔انڈونیشیا میں یہ قدرتی آفات عموماً بارشوں کے موسم میں زیادہ رونما ہوتی ہیں، جو عام طور پر اکتوبر سے مارچ تک جاری رہتا ہے، جب مسلسل بارشیں زمین کو پانی سے لبریز کر دیتی ہیں۔

ماہرینِ ماحولیات کے مطابق جنگلات کی کٹائی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے، کیونکہ جنگلات بارش کا پانی جذب کرنے اور درختوں کی جڑوں کے ذریعے مٹی کو مضبوطی سے تھامنے میں مدد دیتے ہیں۔ جنگلاتی رقبہ کم ہونے سے یہ علاقے اچانک آنے والے سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔اس ماہ کے اوائل میں جزیرہ سیاو (صوبہ سولاویسی) میں موسلا دھار بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلاب کے باعث 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

نومبر میں مغربی سماٹرا کے تین صوبے شدید سیلاب کی زد میں آ گئے تھے، جن میں تقریباً 1200 افراد جان سے گئے اور 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہو گئے، یہ اعداد و شمار قومی ادارہ برائے انسدادِ آفات نے جاری کیے تھے۔

ادھر رواں ہفتے کے آغاز میں انڈونیشی حکومت نے 28 کمپنیوں کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا اعلان کیا، جن میں 22 جنگلاتی استحصال کی کمپنیاں، ایک کان کنی کمپنی اور ایک پن بجلی منصوبے کا ڈویلپر شامل ہے۔

غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق گزشتہ دہائیوں کے دوران جنگلات میں آگ لگنے، کان کنی کی سرگرمیوں اور زرعی فارم قائم کرنے کے باعث انڈونیشیا کے گھنے استوائی جنگلات کے وسیع رقبے ختم ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں