امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے لیے حمایت رکھنے والے نورالمالکی کو وزارت عظمی کے لیے منتخب کیا گیا تو عراق کے لیے امریکی امداد مزید جاری نہ رہے گی۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت اٹھوائے جانے کے غیر معمولی اقدام کے بعد یہ تیسرا ملک ہے جس کی رجیم پر اثر انداز ہونے کی امریکی صدر کی خواہش یا کوشش واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ صدر نکولس مادورو کو 3 جنوری 2026 کو ان کی خوابگاہ سے اٹھا لیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیے گئے انتباہ میں کہا ہے ' میرے سننے میں آرہا ہے کہ عراق جیسا عظیم ملک نور المالکی کو وزیر اعظم منتخب کرکے ایک ممکنہ طور پر بری غلطی کرنے جا رہا ہے۔'
امریکی صدر نے کہا اس سے پہلے نورالمالکی جب حکومت میں تھے تو عراق کو غربت اور افراتفری کی طرف دھکیل گئے تھے۔ اس لیے نور الماملکی کو یہی کچھ دوبارہ کرنے کا موقع نہیں دیا جا سکتا ہے۔ صدرٹرمپ نے یہ بھی کہا نورالمالکی کی پاگل قسم کی پالیسیوں اور نظریات کے ساتھ اگر اسے منتخب کیا جاتا ہے۔
امریکہ عراق کے لیے مزید مدد دینے کا نہیں سوچے گا۔ خصوصا جب امریکہ ایران میں موجود نہیں ہوگا۔ عراق کی کامیابی و خوشحالی اور آزادی کا امکان صفر ہو جائے گا۔
امریکی صدر نے اس تناظر میں کہا 'عراق کو دوبارہ سے عظیم بناؤ'۔
یاد رہے عراق میں شیعہ اتحاد کی عراقی پارلیمنٹ میں اکثریت ہے اور اس نے اپنی اکثریت کی بنیاد پر نورالمالکی کو وزارت عظمی کے لیے نامزد کیا ہے۔ نامزدگی کا یہ اعلان پچھلے ہفتے کیا گیا تھا۔اس پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز انتباہ کیا تھا عراق نورالمالکی کو وزیر اعظم منتخب نہ کرے۔
اس سے قبل بھی نورالمالکی عراق کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ انہیں 2014 میں سخت امریکی دباؤ کی وجہ سے وزارت عظمی چھوڑنی پڑی تھی۔
امریکہ عراق کی سیاست جو سنی شیعہ ہونے کے ناطے اپنے لیے مفید دیکھتا ہے اور شیعہ عناصر کو ایرانی قربت میں دیکھتے ہوئے اسے اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش میں ہے۔ جبکہ ایرانی رجیم کے خلاف پہلے ہی امریکی اعلانات اور خیالات واضح ہیں۔