کشیدگی کے جلو میں ... بحیرہ احمر میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مشقیں

امریکی گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہاز "ڈیلبرٹ ڈی بلیک" نے اس مشق میں شرکت کی، جسے "معمول" کی کارروائی قرار دیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ اور اسرائیل نے پیر کے روز بتایا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں مشترکہ بحری مشقیں کی ہیں، ان مشقوں کو معمول کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

اتوار کے روز ہونے والی یہ مشقیں واشنگٹن اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بیچ سامنے آئی ہیں۔ اس مشق میں امریکی گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہاز "ڈیلبرٹ ڈی بلیک" نے شرکت کی، جو بعد میں اسرائیل کے ساحلی شہر ایلات پہنچ گیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فورسز کی یہ تعیناتی دونوں ممالک کی بری اور بحری افواج کے درمیان "قریبی تعاون" کی توثیق کرتی ہے۔ اسرائیلی جانب سے اس مشق میں جنگی جہاز "آئی این ایس ایلات" نے حصہ لیا۔

واضح رہے کہ مشقوں کے بعد اسرائیلی بندرگاہ سے روانہ ہونے والا تباہ کن بحری جہاز "ڈیلبرٹ ڈی بلیک" فضائی، بحری اور آبدوز شکن دفاع کے ساتھ ساتھ زمینی اہداف پر درست نشانہ لگانے کی صلاحیت سے لیس ہے۔

حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں شدت آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو بارہا فوجی حملوں کی دھمکی دی ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے دھمکی دی ہے کہ حملے کی صورت میں اسرائیل اور امریکہ پر جوابی حملے کیے جائیں گے۔

تاہم پیر کے روز سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ان تنازعات کو کم کرنے کے مقصد سے مذاکرات کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں