انتخابی مہم 2024 کے دوران ٹرمپ کے قتل کی کوشش ... عدالت نے مجرم کو عمر قید کی سزا سنا دی
یہ واقعہ پنسلوینیا کے واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش قرار دیا جا رہا ہے
امریکی ریاست فلوريڈا میں فورٹ پیئرس کی ایک وفاقی عدالت نے 4 فروری 2026 کو 59 سالہ رائن ویسلی روتھ کو پیرول کے بغیر عمر قید اور اس کے ساتھ مسلسل 84 ماہ (7 سال) قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ سزا اسے 2024 کی انتخابی مہم کے دوران صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ (موجودہ صدر) کے قتل کی کوشش کے جرم میں دی گئی ہے۔
جیوری نے ستمبر 2025 میں ڈھائی ہفتے تک جاری رہنے والے ٹرائل کے بعد روتھ کو وفاقی الزامات کے تحت مجرم قرار دیا تھا، جن میں ایک بڑے صدارتی امیدوار کے قتل کی کوشش، وفاقی افسر پر حملہ اور اسلحہ سے متعلق متعدد جرائم شامل تھے۔
قتل کی یہ کوشش 15 ستمبر 2024 کو ویسٹ پام بیچ، فلوریڈا میں واقع ڈونلڈ ٹرمپ انٹرنیشنل گولف کلب کے اندر ہوئی تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم نے حملے کی منصوبہ بندی میں کئی ہفتے گزارے تھے اور وہ SKS ماڈل کی سیمی آٹومیٹک رائفل کے ساتھ گولف کورس کے قریب جھاڑیوں میں کئی گھنٹوں تک ڈونلڈ ٹرمپ کے گزرنے کا انتظار کرتا رہا۔
سکیورٹی سروس کے ایک اہل کار نے رائفل کی نالی دیکھ لی اور اس کی طرف فائرنگ کی، جس پر روتھ ہتھیار پھینک کر فرار ہو گیا اور ایک بھی گولی چلائے بغیر چند ہی منٹوں میں گرفتار کر لیا گیا۔
فلوریڈا کے جنوبی ضلع کی وفاقی عدالت کی جج ایلین ایم کینن نے اس منصوبے کو "سنجیدہ اور شر انگیز" قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملزم "امن پسند آدمی نہیں ہے" اور عمر قید کی سزا "منصفانہ اور مناسب" ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل نے زیادہ سے زیادہ سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے کسی ندامت کا اظہار نہیں کیا اور اگر سکیورٹی سروس مداخلت نہ کرتی تو یہ جرم ایک آسان قتل میں بدل جاتا۔ دوسری جانب، دفاعی ٹیم نے 20 سے 27 سال کی سزا اور لازمی جرمانے کی درخواست کی تھی، اس دلیل کے ساتھ کہ ملزم نے فائرنگ نہیں کی تھی اس لیے اسے مستقبل میں رہائی کی امید ملنی چاہیے۔
روتھ نے عدالت کے سامنے 15 منٹ تک بات کی اور دعویٰ کیا کہ وہ ایک اچھا انسان ہے جس نے یوکرین میں کام کیا ہے۔ اس نے سیاسی قیدیوں کے ساتھ اپنے تبادلے کا مطالبہ بھی کیا اور فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا۔ سماعت کے دوران وہ جیل کے نارنجی لباس میں نظر آیا۔
یاد رہے کہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش تھی، اس سے قبل اسی سال جولائی میں پنسلوانیا میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ فی الوقت اس فیصلے کو حتمی سمجھا جا رہا ہے جبکہ اب سب کی نظریں اپیل کے عمل پر ہیں۔