گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مصر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے ہلچل مچا دی، جس کے ناشر نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی سینا میں مختلف غیر ملکی قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد منشیات کے زیرِ اثر بے ہوشی کی حالت میں پڑے ہیں، جس پر شدید بحث چھڑ گئی۔
تاہم مصری سکیورٹی اداروں نے اس ویڈیو کی حقیقت واضح کر دی۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق جانچ پڑتال اور تفتیش سے معلوم ہوا کہ ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر کا منشیات سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ غیر ملکی سیاحوں کا ایک گروپ تھا جو یوگا کی مخصوص مشقیں انجام دے رہا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ سیاح یوگا کی مشق کے دوران اپنے جسموں پر ریت ڈالے ہوئے تھے اور اس کھیل میں رائج علامتی حرکات اور مراقبے کی کیفیت میں تھے، جو جنوبی سینا کے قدرتی ماحول میں عام بات ہے۔
سکیورٹی اداروں نے ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے شخص کی شناخت بھی کر لی، جو قاہرہ میں مقیم ایک طالب علم نکلا، اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔طالب علم نے اعتراف کیا کہ وہ اتفاقاً یوگا کرنے والے سیاحوں کے پاس سے گزرا، انہیں فلم بند کیا اور زیادہ ویوز اور فالوورز حاصل کرنے کی خاطر من گھڑت کہانی بنا کر اسے منشیات سے جوڑتے ہوئے سوشل میڈیا پر نشر کر دیا۔ملزم کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کر کے اسے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں مزید تحقیقات جاری ہیں۔