وائٹ ہاؤس 19 فروری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" کے لیے رہنماؤں کے اولین اجلاس کا ارادہ رکھتا ہے، میڈیا آؤٹ لیٹ ایکسیوس نے جمعہ کو ایک امریکی اہلکار اور چار ممالک کے سفارت کاروں کے حوالے سے اطلاع دی جو بورڈ میں شامل ہیں۔
ایکسیوس نے اطلاع دی کہ اجلاس کی منصوبہ بندی ابتدائی مراحل میں ہے اور تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔ اس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈ ریزنگ کانفرنس بھی ہو گی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات واشنگٹن میں یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہونا طے پایا ہے۔ اور مشاہدہ کیا گیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو طے شدہ ملاقات سے ایک دن قبل 18 فروری کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
جنوری کے آخر میں تشکیل کردہ اس بورڈ پر کئی ماہرین کو تشویش ہے کہ ایسا بورڈ اقوامِ متحدہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
تمام دنیا کی حکومتوں نے ٹرمپ کے اس اقدام میں شامل ہونے کی دعوت پر محتاط ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کے شرقِ اوسط کے بعض اتحادی اس میں شامل ہو چکے ہیں لیکن کئی روایتی مغربی اتحادی اس سے دور ہی رہے ہیں۔
نومبر کے وسط میں منظور کردہ سلامتی کونسل کی ایک قرارداد نے بورڈ اور اس کے ساتھ کام کرنے والے ممالک کو غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس قائم کرنے کا اختیار دیا۔
حقوق کے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ایک غیر ملکی علاقے کے معاملات کی نگرانی کے لیے ٹرمپ کا بورڈ کی سربراہی کرنا ایک نوآبادیاتی ڈھانچے سے مشابہت رکھتا ہے اور کسی فلسطینی کو اس میں شامل نہ کرنے پر انہوں نے بورڈ پر تنقید کی ہے۔