مصری وزارت اوقاف نے ایک فوری بیان میں ان گردش کرتی خبروں کی تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فجر کی نماز، اذان مغرب اور تراویح کو بیرونی لاؤڈ اسپیکرز پر نشر کرنے پر پابندی کے بعد رمضان کے دوران مذہبی شعائر کو روک دیا گیا ہے۔
وزارت سیاحت نے واضح کیا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وزارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ماہ مقدس میں اذان اور قرآن کی تلاوت کی نشریات کے ذریعے ایمانی ماحول کو فروغ دینے اور مسجدوں میں خوشی و سکون کی روح پھونکنے کے لیے کوشاں ہے۔
وزارت سیاحت نے شہریوں اور میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ رمضان اور دیگر مذہبی مواقع سے متعلق خبروں اور سرگرمیوں کے لیے صرف وزارت کے آفیشل پیجز کو ہی مستند ذریعہ مانیں۔
لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے ضوابط
وزارت نے قبل ازیں ایک شہری کی اس شکایت پر لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے ضوابط وضع کیے تھے جس میں اذان سے قبل قرآن کی تلاوت نشر کرنے پر اعتراض کیا گیا تھا جس سے ایک بحث چھڑ گئی تھی۔
وزارت نے بیرونی لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال سے متعلق ہدایات کی تجدید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا استعمال صرف اذان، جمعہ کے خطبے اور دونوں عیدوں کے لیے مخصوص ہوگا اور اگر ایک لاؤڈ اسپیکر کافی ہو تو اسی پر اکتفا کیا جائے گا۔ اسی طرح اندرونی اسپیکرز کے استعمال کے ضوابط کو بھی دہرایا گیا ہے جن میں نماز کے ہال کی وسعت اور نمازیوں کی تعداد کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت نے ملازمین، مؤذنوں اور اماموں پر زور دیا ہے کہ وہ آواز کے آلات کے استعمال کے ضوابط کی سختی سے پابندی کریں تاکہ خشوع و خضوع، نظم و ضبط اور نمازیوں کے آرام کو یقینی بنایا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر بحث اور حقائق
رمضان میں مذہبی شعائر سے متعلق یہ ضوابط ہر سال ایک بحث کا باعث بنتے ہیں اور ماہ صیام کے قریب آتے ہی سوشل میڈیا پر ان کا تذکرہ بڑھ جاتا ہے۔
گذشتہ دنوں سوشل میڈیا صارفین نے ایسی پوسٹس شیئر کی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزارت نے مساجد کے اندر مخصوص مذہبی شعائر نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے جس سے شہریوں میں سوالات اور بحث کا آغاز ہوا تھا۔