اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا اب نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ماضی میں لوگ عموماً غذائی مشورے ڈاکٹروں اور سائنسی تحقیق سے حاصل کرتے تھے، مگر آج کے دور میں نوجوان یہ مشورے زیادہ تر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے لے رہے ہیں۔
حال ہی میں شائع ہونے والے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹک ٹاک کے صارفین اس بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ کیا کھائیں گے اور کہاں کھائیں گے، جو کھانے اور تراکیب ایپ انہیں مواد دیکھتے وقت دکھاتی ہے۔
نوجوان کیا کھائیں گے، اس کا فیصلہ یہ رجحان کرتا ہے
اس حوالے سے پولینڈ کی کاتووِتسے یونیورسٹی آف اکنامکس کے آرتھر سترتسیلیکی، جنہوں نے اس سروے کے تجزیے میں حصہ لیا، کا کہنا تھا:ٹک ٹاک ویڈیوز میں دکھائے جانے والے غذائی رجحانات اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ نوجوان کیا کھائیں گے، کن ریستورانوں کا رخ کریں گے اور پیش کی جانے والی تراکیب کو کس طرح جانچیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان اپنی زیادہ تر غذائی عادات کو سوشل میڈیا پر دیکھے گئے مواد کے مطابق ڈھالنے لگے ہیں۔
بین الاقوامی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف کنزیومر اسٹڈیز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک کے الگورتھم نظام اس بات میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کہ صارفین کو کیا دکھایا جائے اور یہ مواد اکثر ایسے انفلوئنسرز پیش کرتے ہیں جو برانڈز اور مقامات کی تشہیر کے عوض معاوضہ لیتے ہیں۔
ادھر کتاب ''غذاکے علم کی تاریخ، بقراط سے غذائی اشاریے تک'' کے مصنف برونو لوریو کے مطابق جدید غذائی مشورے ایک طرح کے اضطراب کے ماحول کا شکار ہیں اور رائے ساز شخصیات کے پھیلاؤسے متاثر ہو رہے ہیں۔
مزید یہ کہ ایک اور تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ٹک ٹاک صارفین کے وقت کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن چکا ہے، جہاں صارفین اوسطاً روزانہ 97 منٹ گزارتے ہیں، یہ بات جوئے کے خطرات سے آگاہی فراہم کرنے والے پلیٹ فارم ''پلیئرز ٹائم'' نے بتائی۔
اس کے مقابلے میں یوٹیوب دوسرے نمبر پر ہے، جہاں صارفین روزانہ اوسطاً 85 منٹ گزارتے ہیں، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی (ڈی پی اے) نے رپورٹ کیا۔