ٹرمپ نے روس سے تیل کی خریداری کے باعث بھارت پر عائد ٹیرف ختم کر دیے
ٹرمپ نے روس سے تیل کی خریداری کے باعث بھارت پر عائد ٹیرف ختم کر دیے
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز جمعہ کو ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت بھارت سے درآمدات پر عائد 25 فیصد تادیبی محصولات ختم کر دیے گئے ہیں۔ یہ محصولات روس سے تیل خریدنے کی پاداش میں لگائے گئے تھے اور اب ان کے خاتمے کی وجہ نئی دہلی کا روس سے براہ راست یا بالواسطہ درآمدات روکنے کا عزم ہے۔
بھارت اپنی تیل کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہے۔ یہ درآمدات اس کی طلب کا تقریباً 90 فیصد پورا کرتی ہیں۔ 2022 میں یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد سے سستا روسی تیل بھارت کے لیے درآمدی اخراجات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ انتظامی حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی حکام صورتحال کی نگرانی کریں گے اور اگر نئی دہلی نے دوبارہ روس سے تیل کی خریداری شروع کی تو دوبارہ محصولات عائد کرنے کی سفارش کریں گے۔
جمعہ کو امریکہ اور بھارت ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے جہاں انہوں نے ایک عبوری فریم ورک کا اعلان کیا جس سے محصولات میں کمی ہوگی، توانائی کے شعبے میں تعلقات کی نئی تشکیل ہوگی اور اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔ دونوں حکومتوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ فریم ورک ایک وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کے عزم کی تجدید کرتا ہے تاہم اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے پیر کے روز نئی دہلی کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت بھارتی سامان پر امریکی محصولات کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا جائے گا۔ بدلے میں بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے گا اور تجارتی رکاوٹیں کم کرے گا۔ ٹرمپ نے 50 فیصد کا آدھا حصہ الگ سے بھارت پر روسی تیل کی خریداری کی سزا کے طور پر لگایا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ یوکرین میں ماسکو کی جنگی کوششوں کے لیے مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔
محصولات پر نئی تفصیلات
جمعہ کو جاری ہونے والا مشترکہ بیان پیر کو ٹرمپ کی جانب سے ظاہر کردہ ابتدائی معاہدے کے مقابلے میں اضافی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ اس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ بھارت پانچ سالوں کے دوران 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیاء خریدے گا۔ ان اشیا میں تیل، گیس، کوکنگ کول، طیارے اور ان کے پرزہ جات، قیمتی دھاتیں اور ٹیکنالوجی کی مصنوعات شامل ہوں گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت تمام صنعتی سامان اور امریکی غذائی و زرعی مصنوعات کی ایک وسیع رینج پر محصولات ختم یا کم کر دے گا۔ تاہم اس معاہدے کے تحت بھارت سے امریکہ آنے والی زیادہ تر درآمدات پر 18 فیصد محصولات لاگو ہوں گے۔