امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ روز (بدھ کو) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے بعد اس تصدیق کے باوجود کہ وہ ایران کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی میڈیا پر ایران کے بارے میں سنسنی خیز دعوے کرنے کا الزام عائد کیا ہے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ناکام بنایا جا سکے۔
عراقچی نے گذشتہ رات گئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں لکھا "جب بھی مریم ایڈلسن سے وابستہ میڈیا ایران کے بارے میں سنسنی خیز دعوے پھیلاتا ہے، تو ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ یہ کس کے مفادات کی خدمت کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی صدر نے بھی ان کی بنیادی وفاداریوں کا اعتراف کیا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے وائٹ ہاؤس کے دورے سے ایک گھنٹہ پہلے "Israel Hayom" نے یہ خبر شائع کی کہ ایران نے "ڈونلڈ ٹرمپ کو دھوکا دیا"، جس کا بالواسطہ اشارہ یہ تھا کہ تہران نے امریکی صدر کو کوئی دھوکا نہیں دیا۔
عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ مظاہروں میں شریک کسی بھی شخص کو سزائے موت نہیں دی گئی اور نہ کوئی عدالتی کارروائی مکمل ہوئی ہے، بلکہ دو ہزار سے زائد قیدیوں کو معافی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اسرائیل مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے سے فائدہ اٹھاتا ہے اور انہوں نے "اصل گمراہ کرنے والے" کو تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
Whenever Miriam Adelson’s mouthpiece pushes a dramatic claim about Iran, it’s worth asking who it serves. Even the U.S. President has acknowledged where her primary loyalties lie.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) February 11, 2026
In its latest piece, Adelson's outlet declared—just an hour before Netanyahu’s White House… pic.twitter.com/pJK3JFqRz8
گذشتہ منگل کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے دو ہزار سے زائد سزا یافتہ افراد کی معافی یا سزا میں کمی کا اعلان کیا تھا۔ عدلیہ کے مطابق اس فہرست میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں شریک کوئی بھی شخص شامل نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں گذشتہ دسمبر کے آخر میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا جو جلد ہی ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گیا اور 8 اور 9 جنوری کو اپنے عروج پر پہنچ گیا۔
تہران نے اس بد امنی کے دوران تین ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز کے ارکان اور احتجاج میں شریک نہ ہونے والے راہ گیر بھی شامل ہیں۔ ایران نے اس تشدد کی وجہ ان "دہشت گردانہ کارروائیوں" کو قرار دیا جن کے پیچھے اسرائیل سمیت غیر ملکی قوتوں کا ہاتھ ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ احتجاج پر امن طور پر شروع ہوا تھا لیکن بعد میں بیرونی اشتعال انگیزی کے باعث "ہنگامہ آرائی" میں تبدیل ہو گیا جس میں قتل و غارت اور توڑ پھوڑ شامل تھی۔
اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر "مظاہرین کے خلاف تشدد اور سزائے موت کا سلسلہ نہ رکا" تو فوجی آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔
-
ہماری توجہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے پر مرکوز ہے : امریکی نائب صدر
وینس کے مطابق تہران میں حکومت کا تختہ الٹنا ایرانی عوام کا اپنا معاملہ ہے
بين الاقوامى -
مشیر خامنہ ای: ایران کی میزائل صلاحیت اس کی سرخ لکیر ہے
ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے ایک مشیر نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کی میزائل صلاحیت اس کی ...
مشرق وسطی -
ضرورت سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کریں گے، ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام پر ...
مشرق وسطی