انصاف میں قانونی رائے کے لیے زیرِ غور ہے، جیسے ہی یہ عمل مکمل ہوگا صدر اس درخواست پر غور کریں گے۔
ہرزوگ کے دفتر نے مزید کہا کہ "اسرائیل ایک خود مختار ریاست ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ صدر ٹرمپ کے تبصروں سے پیدا ہونے والے تاثر کے برعکس، صدر ہرزوگ نے ابھی تک اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے"۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو کرپشن کے الزامات میں معافی ملنی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کو معافی نہ دینے پر "اپنے آپ پر شرم آنی چاہیے"۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ بنیامین نیتن یاہو نے جنگ کے دوران بہت زبردست کام کیا ہے اور اسرائیلی عوام کو چاہیے کہ وہ ہرزوگ کو معافی جاری نہ کرنے پر شرمندہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا "یہ شرمناک ہے کہ انھیں (نیتن یاہو کو) معافی نہیں دی گئی۔ انھیں معافی دے دینی چاہیے تھی"۔
واضح رہے کہ بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ روز بدھ کو واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ یہ گذشتہ سال ٹرمپ کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد سے ان کے درمیان ساتویں ملاقات تھی۔ اس ملاقات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں سے متعلق معاہدے پر بات چیت کرنا تھا۔
بنیامین نیتن یاہو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ہیں جنھیں عہدے پر رہتے ہوئے الزامات کا سامنا ہے۔ وہ 2019 میں فردِ جرم عائد ہونے کے بعد سے رشوت، دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت کے الزامات کی تردید کرتے آ رہے ہیں۔
ٹرمپ کئی بار عوامی سطح پر اسرائیلی صدر سے بنیامین نیتن یاہو کو معاف کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ دسمبر کے آخر میں انہوں نے کہا تھا کہ ہرزوگ نے انہیں بتایا ہے کہ معافی کا عمل جاری ہے، تاہم ہرزوگ کے دفتر نے فوری طور پر اس کی تردید کر دی تھی۔
اسرائیلی قانون کے تحت صدر کو سزا یافتہ افراد کو معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم ٹرائل کے دوران معافی جاری کرنے کی کوئی سابقہ مثال موجود نہیں ہے۔