امریکی کمپنیوں کو وینزویلا میں تیل و گیس سے متعلق سرگرمیوں کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ نے وینزویلا کے توانائی کے شعبے پر عائد کردہ پابندیوں پر نرمی کا اغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کئی کمپنیوں کو لائسنسوں کا اجراء بھی کر دیا گیا ہے کہ وہ وینزویلا کے ساتھ تیل و گیس کے سلسلے میں معاہدات اور تجارت کر سکیں اور وینزویلا میں آپریشنز جاری کر سکیں۔

وینزویلا جو کہ اوپیک کا ممبر ہے اور اس کے صدر اور خاتون اول کو امریکہ نے جنوری کے شروع میں ان کی خواب گاہ سے اغوا کرلیا تھا۔

بعد ازاں وینزویلا کے تیل کے ذخائر اور آپریشنز کو امریکی افواج نے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ جس کی وجہ سے تیل و گیس کی سرگرمیوں میں کچھ عرصہ تعطل کا ماحول رہا۔

وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ اب بھی امریکہ میں زیر حراست ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ کسی صدر اور ان کی اہلیہ کو اس طرح ایک دوسرے ملک کی فوج نے اغوا کر لیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ میں کام کرنے والے غیر ملکی اثاثے کنٹرول کرنے کے شعبے نے جمعہ کے روز شیوران، بی پی ، ای این آئی ، شیل اور ریپسول کو وینزویلا میں کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے لائسنسوں کا اجراء کر دیا ہے۔

علاوہ ازیں دنیا بھر کی کئی اور کمپنیوں کو بھی تیل و گیس کے سلسلے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم ان کمپنیوں کو روس ، ایران اور چین کے ساتھ کسی ٹرانزیکشن کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی یہ کمپنیاں ان ملکوں سے متعلق ہیں۔

ان کمپنیوں پر یہ پابندی بھی عائد ہے کہ یہ روس، ایران اور چین کے ساتھ کوئی جوائنٹ وینچر بھی نہیں کر سکیں گے۔

تاہم امریکی و بعض دیگر کمپنیوں کو دی گئی اجازت امریکہ کی طرف سے بڑی اجازت کے طور پر بیان کی جا رہی ہے۔

امریکہ نے وینزویلا پر 2019 سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ یہ پابندیاں صدر ٹرمپ کے ہہلے دور صدارت میں لگائی گئی تھیں۔ اب صدر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت صدارت میں وینزویلا کو زیادہ سخت پابندیوں میں گھیرا ہے۔

امریکہ کے توانائی وزیر کرس رائٹ نے جمعرات کو وینزویلا کے اپنے دورے کے دوسرے دن کہا کہ جب سے وینزویلا کے صدر کو اٹھایا گیا ہے وینزویلا کے تیل کی پیداوار 1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور اگلے مہینوں میں 5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

رائٹ نے کہا امریکہ اس وقت تک وینزویلا میں اپنے کنٹرول اور کارروائیوں کو جاری رکھے گا جب تک وینزویلا میں ایک نمائندہ حکومت کا قیام عمل میں نہیں لے آیا جاتا۔

امریکی وزارت خزانہ نے پچھلے ماہ سے کئی دیگر لائسنس بھی جاری کیے ہیں تاکہ برآمد کنندگان کو سہولت دینے کے علاوہ تیل ذخیرہ کرنے والوں، درآمد کرنے والوں اور فروخت کرنے والوں کو سہولت مل سکے۔

وینزویلا کی حکومت نے امریکی کمپنی ایگزون موبل کے اثاثے 2007 میں منجمد کر دیے تھے۔ اس وقت وینزویلا کے صدر ہوگوشاویز تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی کوشش ہے کہ وہ دوبارہ سے ان کمپنیوں کو وینزویلا میں سرمایہ کاری کرنے پر مائل کر سکیں۔

پچھلے ماہ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایگزون موبل کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔ تاہم ایگزون کے سربراہ نے کہا تھا کہ وینزویلا ابھی اس قابل نہیں ہے کہ اس میں سرمایہ کاری کی جا سکے۔

کرس رائٹ نے جمعرات کے روز کہا اب ایگزون موبل کی وینزویلا کی حکومت کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں اور امریکی کمپنی وینزویلا کے تیل کے شعبے سے متعلق معلومات حاصل کر رہی ہے۔ تاہم اس بارے میں ایگزون نے ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں