"گروک" کی جانب سے جنسی تصاویر کی تیاری ... ایلون مسک کو یورپی تحقیقات کا سامنا

تحقیقات متعلقہ افراد کی رضامندی کے بغیر جنسی نوعیت کی تصاویر کی ممکنہ تخلیق اور تشہیر پر مرکوز ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) کو یورپی یونین کی جانب سے پرائیویسی سے متعلق تحقیقات کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "ایکس" کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ بوٹ "Grok" نے متعلقہ افراد کی رضامندی کے بغیر "ڈیپ فیک" (جعلی تصاویر) بنانا شروع کر دی ہیں۔ یہ بات آئرلینڈ کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی نے آج منگل کو ایک اعلان میں بتائی۔

آئرش ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ اس نے پیر کے روز ایکس پلیٹ فارم کو مطلع کر دیا ہے کہ یورپی یونین کے 27 ممالک میں نافذ العمل پرائیویسی کے سخت قوانین کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سے یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں "گروک" کے رویے کی وجہ سے پلیٹ فارم پر جانچ پڑتال کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

"گروک" نے گذشتہ ماہ عالمی سطح پر تنقید کی لہر کو اس وقت جنم دیا جب اس نے "ایکس" صارفین کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تصاویر بنانے اور ان میں ترمیم کرنے کی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو "برہنہ" کرنے کی درخواستیں پوری کرنا شروع کر دیں۔ ان درخواستوں میں خواتین کو شفاف یا نا مناسب لباس میں دکھانا شامل تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ کچھ تصاویر میں بظاہر بچے بھی شامل ہیں۔ بعد ازاں کمپنی نے "گروک" پر کچھ پابندیاں عائد کیں، لیکن یورپی حکام نے انہیں نا کافی قرار دیا۔

آئرش اتھارٹی نے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات کا مرکز "ایکس" پلیٹ فارم پر متعلقہ افراد کی رضامندی کے بغیر ایسی نجی یا جنسی نوعیت کی تصاویر کی ممکنہ تخلیق اور تشہیر ہے جو "نقصان دہ" ہو سکتی ہیں۔ ان میں یورپی شہریوں بشمول بچوں کا ذاتی ڈیٹا شامل یا اس سے متعلق ہو سکتا ہے۔

"ایکس" پلیٹ فارم نے اس پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ "گروک" کو ایلون مسک کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی "ایکس اے آئی" نے تیار کیا ہے اور یہ "ایکس" پلیٹ فارم کے ذریعے دستیاب ہے۔ یہاں صارفین کی درخواستوں پر اس کے جوابات دوسروں کو عوامی طور پر نظر آتے ہیں۔

اتھارٹی نے مزید کہا کہ اس تحقیقات کا مقصد یہ تعین کرنا ہے کہ آیا "ایکس" پلیٹ فارم نے یورپی یونین میں ڈیٹا پروٹیکشن کے قوانین کی پاسداری کی ہے یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں