صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو امریکہ میں درآمدات پر اضافی 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے ان کی دستخط شدہ اقتصادی پالیسی پر سخت سرزنش کرتے ہوئے ان کی کئی بڑی اور اکثر صوابدیدی ڈیوٹیاں ختم کر دیں۔
ٹرمپ نے اوول آفس میں ٹیرف آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا، یہ "تقریباً فوراً موثر" ہو گیا ہے۔ وہ گذشتہ سال دوست اور دشمن دونوں ممالک کو اپنے مطلب پر لانے اور سزا دینے کے لیے مختلف ٹیرف لگاتے رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی فیکٹ شیٹ کے مطابق نئی ڈیوٹی 24 فروری سے 150 دنوں کے لیے نافذ العمل ہو گی اور الگ تحقیقات کے ماتحت آنے والے شعبوں کے لیے استثنیٰ باقی ہے جس میں فارما اور امریکہ-میکسیکو-کینیڈا معاہدے کے تحت امریکہ میں داخل ہونے والا سامان شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ کے ان تجارتی شراکت داروں کو بھی اب 10 فیصد ڈیوٹی کا سامنا کرنا ہو گا جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ٹیرف پر معاہدے کیے خواہ وہ پہلے ہی بلند ٹیرف پر متفق ہو چکے ہوں۔
لیکن وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ "زیادہ مناسب یا ٹیرف کی پہلے سے طے شدہ شرحیں نافذ کرنے" کے طریقے تلاش کرے گی۔
قبل ازیں جمعہ کو قدامت پسند اکثریتی ہائی کورٹ نے تین کے مقابلے میں چھے کی اکثریت سے فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ نے انفرادی ممالک پر اچانک ٹیرف نافذ کرنے کے لیے 1977 کے جس قانون پر انحصار کیا ہے، وہ "صدر کو محصولات لگانے کا اختیار نہیں دیتا۔"
دو ججز کو نامزد کرنے والے ٹرمپ نے غصے سے جواب دیتے ہوئے بغیر ثبوت کے الزام لگایا کہ عدالت غیر ملکی مفادات کے زیرِ اثر تھی۔
ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا، "میں عدالت کے بعض ارکان پر شرمندہ ہوں، بالکل شرمندہ ہوں جو ہمارے ملک کے لیے جو صحیح ہے، وہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے"۔
"ہمارے ملک کی حفاظت کے لیے ایک صدر درحقیقت اس سے زیادہ ٹیرف لگا سکتا ہے جتنا میں نے ماضی میں وصول کیا،" ٹرمپ نے کہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس فیصلے نے انھیں "زیادہ طاقتور" بنایا ہے۔
سکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ڈلاس کے اکنامک کلب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، متبادل طریقے کا نتیجہ "2026 میں عملی طور پر غیر تبدیل شدہ ٹیرف ریونیو ہو گا۔"
بڑا دھچکا
اس فیصلے سے مخصوص شعبوں پر عائد کردہ ڈیوٹیز پر کوئی اثر نہیں ہوا جو ٹرمپ نے الگ سے سٹیل، ایلومینیم اور دیگر مختلف اشیا پر عائد کیں۔ بدستور جاری حکومتی تحقیقات اضافی شعبہ جاتی ٹیرف کا باعث بن سکتی ہیں۔
پھر بھی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سپریم کورٹ میں ٹرمپ کی یہ سب سے بڑی شکست ہے۔
وال سٹریٹ میں اس فیصلے کے بعد حصص کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا جس کی توقع تھی۔
کاروباری گروپوں نے بڑے پیمانے پر اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور نیشنل ریٹیل فیڈریشن نے کہا، یہ کمپنیوں کے لیے "انتہائی ضروری یقینی حالات فراہم کرتا ہے"۔
رقم کی واپسی پر شکوک
ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتی دلائل میں کہا کہ اگر ٹیرف کو غیر قانونی سمجھا جاتا تو کمپنیوں کو رقم واپس ملتی۔ لیکن فیصلے سے یہ مسئلہ حل نہ ہوا۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں رقم واپس کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے پر سالوں کی قانونی چارہ جوئی کی توقع تھی۔ ٹرمپ کے ایک نامزد امیدوار جسٹس بریٹ کیوانا نے کہا، رقم کی واپسی کا عمل ایک "مصیبت" ہو سکتا تھا۔
پنسلوانیا یونیورسٹی کے پین وارٹن کے بجٹ ماڈل نے پیش گوئی کی ہے کہ ٹیرف پر عدالتی فیصلے سے 175 بلین ڈالر تک کی رقم واپس ہو گی۔
امریکی لوگ "نقدی چھیننے کے غیر قانونی عمل" سے رقم واپس حاصل کرنے کے حقدار ہیں، کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے کہا جن کے 2028 میں ڈیموکریٹک صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی بہت زیادہ توقع ہے۔
"غیر قانونی طور پر لیا گیا ہر ڈالر فوری طور پر واپس کیا جائے - سود کے ساتھ۔ پیسے دو!"
لیکن سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ الزبتھ وارن نے خبردار کیا، "صارفین اور کئی چھوٹے کاروباروں کے لیے پہلے سے ادا کردہ رقم کی واپسی کے لیے کوئی قانونی طریقہ کار نہیں ہے۔"
ییل یونیورسٹی کی بجٹ لیب کا تخمینہ ہے کہ جمعہ کے فیصلے کے ساتھ صارفین کو اوسطاً 9.1 فیصد ٹیرف کی شرح کا سامنا ہے جو 16.9 فیصد سے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شرح 2025 کے علاوہ "1946 کے بعد سے بلند ترین ہے"۔
یورپی یونین اور برطانیہ سمیت امریکہ کے قریبی تجارتی شراکت داروں نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جیسا کہ ٹرمپ نے شمالی ہمسایہ ملک کی خودمختاری پر سوال اٹھائے تو بار بار ٹیرف کی دھمکیوں کا سامنا کرنے والے کینیڈا نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ظاہر ہوا کہ لیویز "غیر منصفانہ" تھیں۔
کینیڈین چیمبر آف کامرس کے صدر کینڈیس لینگ نے کہا، "تجارتی دباؤ دوبارہ بحال کرنے کی غرض سے استعمال ہونے والے نئے، دو ٹوک میکانزم کے لیے کینیڈا کو تیاری کرنی چاہیے جس کے ممکنہ طور پر وسیع تر اور زیادہ گہرے اثرات ہوں گے۔"
-
امریکہ : سوڈانی 'ریپڈ سپورٹ فورس' کے کمانڈروں پر پابندیاں عائد
امریکہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے سوڈان کی 'ریپڈ سپورٹ فورس' کے تین ...
بين الاقوامى -
امریکہ کے ساتھ معاہدے کا مسودہ دو دن میں تیار ہو جائے گا: ایرانی وزیر خارجہ
جوہری پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں، واحد حل سفارت کاری ہے: عباس عراقچی
بين الاقوامى -
امریکہ دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے
وائٹ ہاؤس نے کانگریس کو نوٹس بھیجا ہے
مشرق وسطی