رمضان کے دوران تیونس کے روزہ دار بازاروں میں گھومتے نظر آتے ہیں، مگر کیلا کہیں دکھائی نہیں دیتا، جو سپلائی اور تقسیم کے نظام میں خرابی اور اسمگلروں کے اثر و رسوخ کے باعث کئی ماہ سے بیشتر گھروں سے غائب ہے۔
رمضان میں کیلے کی مانگ تیونسی عوام کے لیے ایک بنیادی پھل کے طور پر بڑھ جاتی ہے، لیکن بازاروں میں شدید قلت کے باعث صرف محدود مقدار ہی کچھ ایسے مقامات پر دستیاب ہے ،جو سرکاری نگرانی سے باہر ہیں۔
تیونس کیلا مکمل طور پر درآمد کرتا ہے کیونکہ ملک میں اس کی پیداوار نہیں ہوتی۔ اگرچہ عالمی سطح پر کیلا ایک سستا اور عام پھل سمجھا جاتا ہے، مگر اس سال تیونس کی منڈیوں میں یہ امیروں کا پھل بن گیا ہے۔
غیر منظم فروخت کے مقامات بنیادی طور پر اسمگل شدہ کیلے پر انحصار کرتے ہیں، جہاں ایک کلو کی قیمت 20 تیونسی دینار (تقریباً 7 امریکی ڈالر) سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت تقریباً 200 ڈالر سے زیادہ نہیں۔
کیلے کی یہ قیمت دنیا کی بلند ترین قیمتوں میں شمار ہوتی ہے، جبکہ یورپی یونین کے ممالک میں جو قریب ترین تیونسی شہر سے صرف تقریباً 150 کلومیٹر دور ہیں ،اس کی قیمت عموماً 1اعشاریہ5 ڈالر سے زیادہ نہیں ہوتی۔
اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم خوراک و زراعت کی تنظیم (FAO) کے مطابق حالیہ برسوں میں عالمی کیلا تجارت نسبتاً بلند سطح پر رہی ہے اور سالانہ تقریباً 2 کروڑ ٹن تک پہنچ چکی ہے۔
تیونس کی وزارتِ تجارت نے کیلے کی تقسیم میں خرابی کو لاجسٹک وجوہات قرار دیا ہے۔ تاہم یہ پہلا رمضان نہیں جس میں مقامی بازاروں میں کیلا نایاب ہوا ہو۔
دارالحکومت کے قریب واقع التحریر محلے کے ایک ساٹھ سالہ پھل فروش نے جرمن خبر رساں ادارے (ڈی پی اے) کو بتایا:اس سال کیلا موجود نہیں۔ اس کا ذمہ دار ریاست ہے۔ غیر حقیقی قیمتیں مسلط نہیں کی جا سکتیں، قیمتیں تو طلب اور رسد کے قانون سے طے ہوتی ہیں۔
رمضان 2025 میں حکومت کو مصر سے بڑی مقدار میں اور کم پیمانے پر جنوبی امریکا اور دیگر ممالک سے کیلے درآمد کرنا پڑے اور فروخت کی قیمت 1اعشاریہ7 سے 2اعشاریہ5 ڈالر کے درمیان مقرر کی گئی۔
تاہم قیمتوں پر کنٹرول کے بعد درآمد کنندگان نے مطلوبہ مقدار میں سامان لانے سے گریز کیا، جس سے بازاروں اور غیر لائسنس یافتہ فروخت کے مراکز پر دباؤ بڑھ گیا۔
حکومت اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے نیٹ ورکس پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ درآمد شدہ کیلے کی بڑی مقدار کو زیادہ منافع کے لیے بلیک مارکیٹ میں منتقل کر دیتے ہیں، جس سے قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
اگرچہ حکام نے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے نگرانی اور کارروائیوں کا اعلان کیا ہے، مگر اس سال رمضان کے آغاز کے ساتھ مسئلہ بدستور برقرار ہے۔مرغی کے گوشت کی دکان کے باہر قطار میں کھڑی ایک خاتون نے کہا:قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں۔
ہماری دوسری ضروریات زیادہ اہم ہیں، اگر رمضان میں کیلا نہ بھی کھائیں تو ہم بے ہوش نہیں ہو جائیں گے۔ جب ہم بائیکاٹ کرنا سیکھ لیں گے تو اشیا خود ہی واپس آئیں گی اور قیمتیں کم ہو جائیں گی۔
ادھر حکومت نے اب تک ایسی کسی منصوبہ بندی کا اعلان نہیں کیا، جس کے تحت بازار کی ضرورت پوری کرنے یا اسمگل شدہ اشیا کی قیمتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے مزید کیلے درآمد کیے جائیں۔