"موت کے باغ میں انسانی ڈھال"... حدیدہ میں حوثیوں کی خلاف ورزیاں

یمنی نیٹ ورک برائے حقوق و فراہمی آزادی نے ایک سال کے دوران حدیدہ میں حوثیوں کی جانب سے کی گئی 4 ہزار 868 خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن کے مغرب میں واقع ساحلی صوبے حدیدہ کے باشندوں کی یادداشت میں سال 2025 کوئی عام سال نہیں تھا۔ انسانی حقوق کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ربس نقصانات اور مسلسل تشویش سے بھرا ہوا ایک پڑاؤ تھا، جس نے شہریوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کی سنگینی پر روشنی ڈالی ہے۔

یمنی نیٹ ورک برائے حقوق و فراہمی آزادی نے "حدیدہ.. موت کے باغ میں انسانی ڈھال" کے عنوان سے جاری رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس نے گذشتہ برس کے دوران حوثی ملیشیا کی جانب سے کی گئی 4 ہزار 868 خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان خلاف ورزیوں میں جرائم کی متعدد اقسام شامل ہیں، جن میں ماورائے عدالت قتل، گولہ باری اور بارودی سرنگوں کے نتیجے میں جانی نقصان، اغوا اور جبری گمشدگی، تشدد اور حراستی مراکز میں قتل کے علاوہ بچوں کو بھرتی کرنا اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا شامل ہے۔

رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے مطابق قتل کے دستاویزی کیسوں کی تعداد 262 رہی، جن میں 51 بچے اور 37 خواتین شامل ہیں، جبکہ 225 افراد زخمی ہوئے جن میں 47 بچے اور 40 خواتین شامل ہیں۔ اسی طرح مختلف علاقوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی وجہ سے تقریباً 80 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 19 بچے اور 8 خواتین شامل ہیں، جبکہ 66 شہری زخمی ہوئے۔ یہ اشاریہ آبادی پر جنگی باقیات کے خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ میں گرفتاری اور اغوا کے 2304 کیسوں کو بھی دستاویزی شکل دی گئی ہے، جن میں 274 جبری گمشدگی، 38 تشدد اور جیلوں کے اندر قتل کے 9 کیس شامل ہیں۔ ان کے علاوہ طبی غفلت کے نتیجے میں 11 اموات ہوئیں۔ حوثی ملیشیا کے زیرِ قبضہ علاقوں میں 72 خفیہ جیلوں کے قیام کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔

عوامی اور نجی املاک کے حوالے سے رپورٹ نے شہری تنصیبات کے خلاف 1024 خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں، جن میں 842 گھروں کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ گھروں اور عوامی پلوں کو دھماکوں سے اڑانے، بڑے پیمانے پر چھاپوں اور گھروں میں گھسنے، رقوم اور گاڑیوں کی ضبطی اور عبادت گاہوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیاں بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں اسلحہ اور ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کے لیے حدیدہ کی بندرگاہ کے استعمال کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

نیٹ ورک کا ماننا ہے کہ حدیدہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں، بلکہ اس کی وضاحت کے مطابق یہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے ایک منظم انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ نیٹ ورک نے سزا سے بچ نکلنے کے مسلسل رجحان کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔
رپورٹ میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدام کرنے، زیرِ حراست افراد کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے، بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنے اور سنگین خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا راستہ ہموار ہو سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں