سینیٹ آف پاکستان نے اسرائیل اور بھارت کے مبینہ گٹھ جوڑ کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے مسلم ممالک سے متعلق بیان کی شدید مذمت کی ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ اسرائیلی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
سینیٹر پلوشہ خان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مسلم ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام کی مخالفت کی جائے گی۔ ایوان نے اسرائیلی قیادت کے علاقائی اتحاد سے متعلق بیان کو مسلم امہ کے اتحاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ اسرائیل کا طرزِ عمل بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کیا جاتا ہے۔ ایوان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے پھیلاؤ کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے فوری انخلا اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔