ترکیہ میں مقیم شامی باشندے گزشتہ سال 2025 کے دوران ترک شہریوں سے شادی کرنے والے غیر ملکیوں کی فہرست میں سرفہرست رہے۔ ترک ادارہ شماریات کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ترک خواتین سے شادی کرنے والے غیر ملکی مردوں میں شامی شوہروں کا تناسب 20.9 فیصد رہا۔ اسی طرح ترک مردوں سے شادی کرنے والی غیر ملکی خواتین میں شامی بیگمات کا تناسب 13.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں ادارہ شماریات کے ڈیٹا نے ظاہر کیا کہ گذشتہ سال ترکیہ میں 5 لاکھ 52 ہزار 237 افراد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے جبکہ 1 لاکھ 93 ہزار 793 جوڑوں کے درمیان طلاق ریکارڈ کی گئی۔
شادی کی اوسط عمر کے حوالے سے سال 2025 میں مردوں کے لیے یہ اوسط 28.5 سال اور خواتین کے لیے 26 سال رہی۔ ترکیہ میں لاکھوں شامی مقیم ہیں جن میں سے اکثر اپنے ملک کی جنگ سے بھاگ کر آئے تھے لیکن دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی ایک بڑی تعداد اپنے ملک واپس جا چکی ہے۔
ترک وزیر داخلہ مصطفیٰ چیفچی نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اپنی مرضی سے وطن واپس جانے والے شامیوں کی تعداد اب تک 13 لاکھ 66 ہزار 215 ہوگئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واپس جانے والے ہمارے وطن کے دلوں کے سفیر بن گئے ہیں۔
ترک اخبار "عاجل" کے مطابق چیفچی نے یہ بات دارالحکومت انقرہ میں گورنرز ملاقات پروگرام میں شرکت کے دوران کی۔ انہوں نے 81 صوبوں کے گورنرز سے خطاب کرتے ہوئے سکیورٹی، امن عامہ، غیر قانونی ہجرت اور شامیوں کی واپسی سے متعلق امور پر گفتگو کی تھی۔ اخبار کے مطابق وزیر نے کہا کہ غیر قانونی ہجرت عالمی سطح پر سکیورٹی کے بڑے خطرات میں سے ایک ہے اور ترکیہ اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب کے درمیان ہجرت کے ایک فعال راستے پر واقع ہے اور اسی وجہ سے ترکیہ کو ایک محتاط اور پائیدار ہجرت کی پالیسی اپنانا ضروری ہے۔