رمضان کی پہیلیاں: مصر میں ریڈیو سے لازوال شہرت کے دور تک یاداشتوں میں کندہ ایک تاریخ
نیلی اور شریکھان کی پہیلیاں اب تک کے سب سے مشہور ٹی وی پروگرام، رواں صدی میں ایسے پروگرام کامیاب نہ ہوئے
مصر میں لوگوں کے وجدان میں رمضان کی پہیلیاں (فوازیر) افطار کے بعد کی خوشی اور اس لمحے سے جڑی ہوئی ہیں جب ایک خاندان روزانہ کی دلچسپ پہیلی کے انتظار میں سکرین کے گرد اکٹھا ہوتا ہے۔ تاہم یہ فنی رجحان ٹیلی ویژن کی سکرین سے ہی شروع نہیں ہوا تھا بلکہ اس سے پہلے کچھ تمہیدی مراحل بھی تھے جنہوں نے اس کا راستہ بنایا تھا۔ نیلی اور شریکھان کے ساتھ رجحان اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ گیا۔ نیلی اور شریکھان کی پہیلیاں بلا مقابلہ سب سے زیادہ مشہور اور آج تک یاداشتوں میں سب سے زیادہ راسخ پہیلیاں ہیں۔
ریڈیو سے شروعات
رمضان کی پہیلیوں کی پہلی چنگاری مصری ریڈیو سے میڈیا شخصیات آمال فہمی اور سامیہ صادق کے ہاتھوں نکلی۔ خیال بہت سادہ تھا کہ ریڈیو پر ایک سوال پوچھا جاتا اور سامعین سے ڈاک کے ذریعے جوابات بھیجنے کا مطالبہ کیا جاتا۔ اگرچہ یہ شکل تصویر اور پرفارمنس سے خالی تھی تاہم یہ روزانہ انتظار کی کیفیت پیدا کرنے میں کامیاب رہی۔ اس پروگرام نے عوامی تعامل کے اس تصور کی بنیاد رکھی جو بعد میں ٹیلی ویژن کی پہیلیوں کا جوہر بن گیا۔
ٹیلی ویژن کی طرف منتقلی
1961 میں مصری ٹیلی ویژن کے آغاز کے ایک سال بعد یہ خیال "ضرب الامثال کی پہیلیوں" یا "جیسا کہ کہاوت ہے" کے ذریعے چھوٹی سکرین پر منتقل ہو گیا۔ قسطیں ایک مختصر ڈرامائی قالب میں پیش کی جاتی تھیں جس میں کسی عوامی کہاوت کی عکاسی کی جاتی اور ناظرین کو صحیح کہاوت کا اندازہ لگا کر ڈاک کے ذریعے جواب ارسال کرنا ہوتا تھا۔ یہاں سے ڈرامہ اور پہیلی کا امتزاج شروع ہوا لیکن حقیقی پیش رفت بعد میں ہوئی۔
پرفارمنس کا آغاز
1967 میں ہدایت کار محمد سالم نے پہلی عرب پہیلیاں پیش کیں جو ڈرامہ اور پرفارمنس کا امتزاج تھیں۔ یہ پروگرام "ثلاثی اضواء المسرح" گروپ کے تعاون سے پیش کیا گیا جس میں سمیر غانم، جارج سیدہم اور الضیف احمد شامل تھے۔ یہ تبدیلی پہیلیوں کی اس کی معروف فنی شکل یعنی گانے، اداکاری، رقص اور پھر حل کے منتظر معمے کی پیدائش کا اعلان تھی۔ 1975 سے 1981 تک اداکارہ نیلی نے لگاتار سیزن پیش کیے جنہوں نے پہیلیوں کو رمضان کے اہم ترین رسم و رواج میں سے ایک کے طور پر مستحکم کر دیا۔ اس سیزن کی ہدایت کاری تخلیقی ہدایت کار فہمی عبدالحمید نے کی جو اس فنی صنف کی صنعت میں سب سے نمایاں نام بن گئے۔ نیلی کے ساتھ پہیلیوں کی کلاسیکی شکل طے پا گئی جس میں ہر سیزن کے لیے ایک مخصوص خیال، ہلکی پھلکی خوبصورت پرفارمنس، بدلتے ہوئے لباس اور پرکشش شعری انداز میں روزانہ کی پہیلی شامل تھی۔ ان کی پیش کردہ مشہور پہیلیوں میں "الخاطبہ"، "عالم ورق"، "صندوق الدنیا" اور "ام العریف" شامل ہیں۔ اس طرح یہ پہیلیاں ایک ایسا وقت بن گئیں جسے چھوڑا نہیں جا سکتا تھا اور نیلی کا نام رمضان کے ساتھ مضبوطی سے جڑ گیا۔
سمیر غانم اور فطوطہ
سال 1982 میں ہدایت کار فہمی عبدالحمید نے "فطوطہ" کا کردار تخلیق کیا جسے سمیر غانم نے 1984 تک پیش کیا۔ یہ کردار اپنی مزاحیہ روح اور مخصوص سبز لباس کی وجہ سے مختلف تھا اور اس نے بڑے پیمانے پر عوام، خاص طور پر بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ یہ کردار آج تک رمضان کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔
شریکھان اور پرفارمنس کا عروج
پھر اداکارہ شریکھان کے ساتھ ایک نیا مرحلہ شروع ہوا جنہوں نے 1988 تک پہیلیاں اور "الف لیلہ و لیلہ" کی کہانیاں پیش کیں جس سے پہیلیاں مکمل سحر انگیزی کے دور میں داخل ہوگئیں۔ شریکھان کے ساتھ پہیلیاں ایک بہت بڑے پرفارمنس شو میں بدل گئیں جس میں پیشہ ورانہ رقص، شاندار اور یادگار لباس، کیمرے کی متحرک حرکت اور ایسی پیچیدہ پہیلیاں شامل تھیں جن کے لیے توجہ درکار ہوتی تھی۔ اس مرحلے پر پہیلیاں اپنی مقبولیت کے عروج پر پہنچ گئیں اور روزانہ کی بنیاد پر مصری اور عرب گلیوں کا موضوع بن گئیں۔
بعد کی کوششیں اور چمک میں کمی
اسی دوران 80 کی دہائی کے آخر اور نوے کی دہائی میں رمضان کی پہیلیوں کے متعدد سیزن دیکھے گئے جن میں صابرین، ہالہ فواد اور یحییٰ الفخرانی کی شرکت کے ساتھ "المناسبات" پہیلیاں، شیریں رضا اور مدحت صالح کی "الفنون" پہیلیاں اور محمد الحلو اور شیریں وجدی کی "قیس و لیلیٰ" کی پہیلیاں شامل تھیں۔ دیگر تجربات بھی سامنے آئے لیکن انہیں مطلوبہ کامیابی نہ مل سکی اور ان پروگراموں کی چمک پہلے جیسی نہ رہی۔
بعد کے برسوں میں متعدد کام دیکھے گئے جن میں نیلی کے نئے سیزن اور مختلف فنکاروں کے دیگر کام شامل تھے۔ نوے کی دہائی کے وسط میں بالے ڈانسر اور اداکارہ نادین کا اہم تجربہ سامنے آیا جنہوں نے وائل نور کے ساتھ ’’ جیران الہنا ‘‘ پہیلیاں پیش کیں۔ اس تجربے نے واضح عوامی کامیابی حاصل کی جس کی وجہ سے وہ اگلے سال "مانستغناش" کے عنوان سے دوسرا سیزن پیش کرنے کے اہل ہوئیں۔ اس سے نادین ان چند لوگوں میں شامل ہو گئیں جنہوں نے عروج کے بعد کے مرحلے میں اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی اور مسلسل دو سال تک کامیابی کے ساتھ پہیلیاں پیش کیں۔
گراوٹ اور خاتمہ
1999 میں "حلم ولا علم" کے عنوان سے ایک اور تجربہ پیش کیا گیا جس میں اداکارہ نیلی کریم نے صلاح عبداللہ کے ساتھ شرکت کی۔ تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود اس کوشش کو وہ عوامی کامیابی نہ مل سکی جس کی توقع تھی اور وہ اس چمک کو واپس نہ لا سکی جو ذہنوں میں پہیلیوں کے سنہری دور سے وابستہ تھی۔ اس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ فن ذائقے کی تبدیلی اور تفریحی متبادلات کی کثرت کے باعث اپنی جگہ کھونا شروع کر چکا ہے۔ نئی صدی کے آغاز کے ساتھ پہیلیوں کو زندہ کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن انہیں ویسی عوامی کامیابی نہ مل سکی۔ اس طرح یہ پہیلیاں بتدریج رمضان کے نقشے سے غائب ہو گئیں۔
نہ مٹنے والی یادیں
تجربات کی کثرت کے باوجود اجتماعی یاداشت میں اب بھی دو بنیادی تصویریں محفوظ ہیں۔ نیلی اپنی نفاست اور خوش مزاجی کے ساتھ اور شریکھان اپنی شاندار پرفارمنس کی توانائی کے ساتھ۔۔ آج بھی جیسے ہی رمضان کی پہیلیوں کا ذکر ہوتا ہے نیلی اور شریکھان کے نام سب سے پہلے ذہن میں آتے ہیں۔ گویا ان دونوں نے اس پورے فن کو اپنے اندر سمو لیا ہو۔ پہیلیاں بتدریج ختم ہو گئی ہیں لیکن ان کا اثر ختم نہیں ہوا کیونکہ وہ محض ایک کوئز پروگرام نہیں تھیں بلکہ ایک مکمل رمضان کے معمول کا حصہ تھیں۔ افطار، نماز، خاندانی محفل، اور پھر روزانہ کی ایک پہیلی جو بحث اور ہنسی کا باعث بنتی تھی۔
اس طرح نیلی اور شریکھان کی پہیلیاں مصری اور عرب ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ایک روشن علامت اور ایک گرمجوش یاد کے طور پر باقی ہیں اور یہ یاد ہر رمضان مبارک میں تازہ ہوتی ہے تاکہ ہمیں اس وقت کی یاد دلائے جب خوشی ایک چھوٹی سی پہیلی اور ایک بڑے شو سے تخلیق کی جاتی تھی۔