بھارت و اسرائیل کے درمیان ہونے والے تازہ معاہدات کی روشنی میں مختلف شعبوں میں تکنیکی و صنعتی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے میدانوں میں پیش رفت ہوگی۔ علاوہ ازیں دونوں ملکوں کے درمیان 'فری ٹریڈ' کا معاہدہ بھی ہو گیا ہے۔
وزیراعظم بھارت نریندر مودی نریندر مودی نے یہ بات اپنے دو روزہ اسرائیلی دورے کے اختتام پر جمعرات کی رات کہی ہے۔
انہوں نے کہا دونوں ملک 'ہوریزنس سکیننگ' کے شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ جو بھارت کی تذویراتی اہلیت میں اضافے کا باعث بنے گا۔ یہ بات بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے کہی گئی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان آندہ درپیش آنے والے خطرات کو پہلے سے دیکھنے کے لیے بھی تذویراتی قربت بڑھے گی اور اس سلسلے میں تکنیکی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ مشترکہ تحقیقات اور اہلیت میں اضافے کے لیے مصنوعی ذہانت کے آلات کا استعمال بھی کیا جائے گا۔
اگلے پانچ برسوں کے دوران اسرائیل بھارت سے 50 ہزار کارکنوں کو اپنے ہاں روزگار دے گا۔ روزگار کے یہ مواقع زیادہ تر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ہوں گے۔
وزیراعظم مودی نے ایشیا میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنے اسرائیلی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت میں رہنے کا بھی عندیہ دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مشاورتی سلسلہ جاری رہے گا۔
نیتن یاہو کے ساتھ اپنی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مودی نے کہا کہ غزہ امن منصوبہ خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے کا منصوبہ ہے۔ بھارت نے اس امن منصوبے کے لیے اپنی مکمل حمایت پیش کی ہے اور ان کوششوں کو سراہتا ہے۔
خیال رہے نریندر مودی کا اسرائیل کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ نے وسیع پیمانے پر بحری افواج کو ایرانی ساحلوں کے نزدیک تعینات کیا ہے۔ تاکہ ایران کے خلاف اپنے ممکنہ حملے کے دوران گہرے نتائج لینے کے لیے ایرانی جوہری پروگرام کو بھی ایک بار پھر نشانہ بنایا جا سکے۔ جس کے حوالے سے امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔