ہمارا مقصد نظام کو ختم کرنا ہے ... نیتن یاہو کا ایرانیوں کو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے "ایران کے وجودی خطرے کے خلاف کارروائی" شروع کر دی ہے۔
ایران نے آج ہفتے کے روز ہونے والے حملوں کے جواب میں اسرائیل پر کئی میزائل داغے ہیں۔

بنیامین نیتن یاہو نے ایک وڈیو خطاب میں کہا کہ اس آپریشن کو "شیر کی دھاڑ" کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "ہمارا مقصد نظام کا خاتمہ ہے"۔

نیتن یاہو نے تمام ایرانیوں کو اسلحہ ڈالنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ "جو اسلحہ ڈال دے گا وہ بچ جائے گا"۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ وہ "ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہونے کی اجازت نہیں دیں گے"۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک میں حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں، کیونکہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے اندر بڑے پیمانے پر حملہ شروع کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا سے اپنے وڈیو خطاب میں کہا "جب ہم فارغ ہو جائیں گے، تو اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھال لینا.. یہ آپ کے حوالے کرنے کے لیے ہوگی"۔ انہوں نے مزید کہا "آنے والی نسلوں کے لیے یہ آپ کا واحد موقع ہو سکتا ہے"۔

ادھر ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے کہا ہے کہ "اسلامی جمہوریہ پر حتمی فتح قریب ہے"۔ امریکہ میں مقیم رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو پیغام میں کہا "ہم حتمی فتح کے بہت قریب ہیں۔ میں جلد از جلد آپ کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں تاکہ ہم مل کر ایران کو دوبارہ حاصل کر سکیں اور اس کی تعمیر نو کر سکیں"۔

اسی دوران اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے کئی میزائلوں کا پتہ لگایا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں سائرن بج اٹھے ہیں۔ شہریوں کو ٹیکسٹ میسجز بھیجے گئے ہیں جن میں انہیں پناہ گاہوں میں جانے کی تاکید کی گئی ہے۔

دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی حملہ شروع کر دیا ہے۔

یہ حملے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ اور حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی آپشن کے بارہا اشارے کے بعد سامنے آئے ہیں، جبکہ انہوں نے خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی کمک بھی بھیجی تھی۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب اگلے ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی مذاکرات کا ایک اور دور ہونا تھا، جن کے گذشتہ تین دوروں کو تہران نے اچھا قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں