ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تنازع کو ضرورت پڑنے تک جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس دوران وائٹ ہاؤس کے مشیر برائے کرپٹو کرنسی اور مصنوعی ذہانت ڈیوڈ سیکس نے رائے دی ہے کہ امریکہ کو "فتح کا اعلان کر کے جنگ سے نکل جانا چاہیے۔"
روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی کسی اہم شخصیت کی جانب سے جنگ ختم کرنے کی اس نادر تجویز میں ڈیوڈ سیکس نے آج ہفتے کے روز کہا کہ "یہ فتح کا اعلان کرنے اور پیچھے ہٹنے کا موزوں وقت ہے۔"
ایک پوڈ کاسٹ میں شرکت کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کر دیا ہے، لہذا اب ہمیں اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر کشیدگی میں اضافے سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا، تو ہمیں حالات کو ٹھنڈا کرنے کے طریقے پر غور کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں اس کا مطلب جنگ بندی کا کوئی معاہدہ یا ایران کے ساتھ مذاکراتی تصفیہ ہو سکتا ہے۔"
ڈیوڈ سیکس جو ایک ممتاز سرمایہ کار اور مصنوعی ذہانت کی پالیسیوں کے سربراہ ہیں، ان کا یہ موقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف "ہمیشہ کے لیے" لڑائی جاری رکھ سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اس سے قبل یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تہران کو جنگ میں عبرتناک شکست ہوئی ہے اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ (ٹرمپ) اس سے انکار کر رہے ہیں۔
باخبر امریکی ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں کے درمیان جنگ کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے ایک مسابقت جاری ہے۔ ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور ان کے نائب جیمز بلیئر سمیت سیاسی مشیروں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ فتح کے معیار کو محدود کریں اور یہ اشارہ دیں کہ یہ آپریشن محدود تھا اور اب ختم ہونے والا ہے۔
دوسری طرف کچھ سخت گیر عناصر نے امریکی صدر پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ تہران کے خلاف حملے جاری رکھیں۔ اگرچہ بعض امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے جنگ کے مزید تین ہفتے تک طویل ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔