امریکہ کی قومی انٹیلی جنس کی سربراہ تلسی گیبارڈ نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت 28 فروری سے شروع کی گئی جنگ میں کمزوری کا شکار ہے مگر اب بھی بر قرار محسوس ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ اس کی 'پراکسیز' بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور امریکہ و اتحادی کے مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔ نیز اتحادی و امریکہ پر حملہ کرنے پر حملے بھی کر رہی ہیں۔
بدھ کے روز امریکی انٹیلی جنس چیف نے کہا امریکہ کے آپریشن اپیک فیوری کے باوجود ایرانی رجیم اب بھی مربوط ظاہر ہوتی ہے۔ وہ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سالانہ سماعت کے دوران امریکہ کے لیے دینا بھر میں موجود خطرات کے بارے میں بیان دے رہی تھیں۔
تلسی گیبارڈ نے بیان میں کہا ایران اور اس کی 'پراکسیز' کے خلاف جاری جنگ کے باوجود ایرانی 'پراکسیز' بھی امریکہ و اتحادی کے خلاف مشرق وسطیٰ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا اگر امریکہ کی دشمن رجیم اس جنگ کے باوجود اپنا بچاؤ کرنے میں کامیاب رہی تو اسے نئے سرے سے اپنی میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون طیاروں کی پیداوار کا نظام تعمیر کرنا پڑے گا جس میں لمبی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
ایران کے خلاف شروع کی گئی ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ پر جہاں ڈیموکریٹس ارکان کانگریس کو ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں بہت سی شکایات ہیں وہیں ری پیبلیکن پارٹی کے ارکان کانگریس بھی اس جنگ کے بارے میں مزید معلومات طلب کر رہے ہیں کہ اس جنگ نے لاکھوں جانوں، توانائی کے شعبے اور معیشتوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کی شکایات بطور خاص اہم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر کا یہ استعمال جنگ پر کئی سوال اٹھانے کا باعث ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی رازدارانہ اور خفیہ بریفنگز کی بجائے ٹیکس ادا کرنے والے عوام کے سامنے حقائق لائے جانے چاہییں اور انہیں بتایا جائے کہ یہ جنگ کیوں لڑی جا رہی ہے اور اب تک کیا حاصل ہوا ہے۔
سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں 'سی آئی اے' کے ڈائریکٹر جون ریٹ کلف بھی اپنا بیان دینے کی تیاری کر رہے تھے۔
یاد رہے جوئی کینٹ کے استعفے کے بعد ایک نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اگرچہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے اب تک کے پہلے افسر ہیں جنہوں نے جنگ کا حصہ بننے سے اپنے آپ کو الگ کر لیا ہے اور کہا ہے کہ میں اپنے ضمیر کی بنیاد پر اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا کیونکہ ایران سے امریکی سلامتی اور امریکی قوم کو کوئی خطرہ درپیش نہیں تھا۔ امریکہ نے یہ جنگ محض اسرائیل کے دباؤ کی وجہ سے شروع کی ہے اور امریکہ میں موجود طاقتور اسرائیلی لابی کی وجہ سے شروع کی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے جوئی کینٹ کے اس بیان کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے یہ دعوے غلط اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔
تلسی گیبارڈ نے کمیٹی کے سامنے اپنا جائزہ پیش کیا اور ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات کا ذکر کیا۔