ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو ٹرمپ مزید شدت سے حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں: وائٹ ہاؤس
تہران کے امریکی تجویز مسترد کرنے کے باوجود مذاکرات جاری ہیں: ترجمان کیرولائن لیویٹ
وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر اس سے بھی زیادہ شدت سے حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں اگر اس نے اپنی عسکری شکست کا اعتراف نہ کیا۔ انہوں نے ایک پریس بریفنگ کے دوران مزید کہا کہ صدر ٹرمپ گیدڑ بھبکی نہیں دے رہے۔ وہ ایک شدید جنگ چھیڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ایران کو دوبارہ غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران موجودہ صورتحال کو قبول نہیں کرتا اور اگر وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اسے عسکری شکست ہوئی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہا، تو صدر ٹرمپ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت ضرب لگائی جائے۔ کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ فضول دھمکیاں نہیں دیتے، وہ جہنم کے دروازے کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ ایران اپنی حساب کتاب میں دوبارہ غلطی نہ کرے۔
ترمب: لا أحد يريد أن يشغل منصب المرشد في إيران حاليا.. وقادتها يتفاوضون معنا لكنهم ينكرون ذلك أمام شعبهم خشية الموت
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) March 26, 2026
قناة العربية pic.twitter.com/SXtMCoPOU5
لیویٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران اب بھی امن مذاکرات میں مصروف ہیں، یہ مذاکرات ایرانی سرکاری میڈیا کی ان خبروں کے باوجود ہو رہے ہیں کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے واشنٹگن کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایرانی رپورٹس کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور یہ سودمند ہیں۔ تہران کو بھیجے گئے 15 نکاتی امریکی منصوبے کی تفصیلات کے بارے میں میڈیا رپورٹس میں سچائی کے کچھ پہلو موجود ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ تہران ابتدائی منفی ردعمل کے باوجود جنگ ختم کرنے کی امریکی تجویز کا اب بھی مطالعہ کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اب تک اس تجویز کو قطعی طور پر مسترد نہیں کیا ہے۔ ایرانی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے کسی بھی امکان پر سخت تنقید کی ہے لیکن پاکستان کو باضابطہ جواب بھیجنے میں واضح تاخیر، جس نے واشنگٹن کی جانب سے 15 نکاتی تجویز پیش کی تھی، اس بات کا اشارہ معلوم ہوتی ہے کہ تہران میں کم از کم کچھ شخصیات اس تجویز پر غور کر رہی ہو سکتی ہیں۔