امریکی سینٹرل کمانڈ ( سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے اور ایران میں ان فوجی اہداف کو تباہ کر رہی ہے جنہوں نے دہائیوں سے خطے کو خطرے میں ڈال رکھا تھا۔ سینٹ کام نے ’’ ایکس ‘‘پر کہا کہ امریکی افواج ایرانی نظام کے بنیادی ڈھانچے اور فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے مقصد سے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں جنہوں نے دہائیوں سے امریکی افواج اور علاقائی شراکت داروں کو دھمکایا ہے۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ A-10 تھنڈربولٹ لڑاکا طیاروں نے ایرانی بحریہ کے خلاف حملے کیے ہیں۔ سینٹ کام نے کہا تھا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک وہ ہزاروں فضائی مشن انجام دے چکی ہے اور 9000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
U.S. forces are striking targets to degrade the Iranian regime's military infrastructure and capabilities that have threatened American troops and regional partners for decades. pic.twitter.com/wPIR1c6kA0
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 25, 2026
ایرانی شہر، خاص طور پر دارالحکومت تہران، 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والے مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملے کے آغاز سے ہی تقریباً روزانہ بمباری کی زد میں ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکام جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایران اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کر کے اور خلیج میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا کر جواب دے رہا ہے۔
U.S. Air Force A-10 Thunderbolt II attack aircraft have been used to strike Iranian naval vessels during Operation Epic Fury. pic.twitter.com/VasnOrehax
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 25, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ایران میں بجلی گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسے مذاکرات کے لیے امریکی درخواست کے حوالے سے دوست ملکوں کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔