ہم تہران میں جمہوری طرز حکومت چاہتے ہیں ... آذربائیجان ڈیموکریٹک پارٹی آف ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک ایرانی اپوزیشن جماعت نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ گذشتہ چار ہفتوں سے جاری جنگ کے دوران خلیج عرب کے ممالک پر تہران کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایران میں حقیقی جمہوری طرزِ حکومت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

آذربائیجان ڈیموکریٹک پارٹی آف ایران کی سابق سکریٹری جنرل اور موجودہ ترجمان سیمین صبری نے 'العربیہ' کو دیے گئے انٹرویو میں خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی ملک کے خلاف فوجی جارحیت یا طاقت کے وحشیانہ استعمال کی مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات بڑی طاقتوں کا براہِ راست مقابلہ کرنے میں ایران کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہمسایہ ممالک یا بالواسطہ مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ عمل تنازع کو مزید سنگین بنا دے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ تمام جنگوں کا فیصلہ آخر کار مذاکرات سے ہی ہوتا ہے، اس لیے اس راستے کو جتنا جلد اپنایا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔

ایرانی آذربائیجان ڈیموکریٹک پارٹی کی ترجمان سیمین صابری
ایرانی آذربائیجان ڈیموکریٹک پارٹی کی ترجمان سیمین صابری

سیمین صبری کے مطابق موجودہ جنگ کے پیچھے بنیادی طور پر معاشی وجوہات کارفرما ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی بحران کا شکار ممالک اکثر اپنے اندرونی مسائل دبانے کے لیے بیرونی محاذ کھول لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کی اسرائیل کو دھمکیاں، امریکہ مخالف بیانیہ اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے خدشات نے بھی اس آگ کو ہوا دی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اب یہ تنازع صرف امریکہ، اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ علاقائی ممالک بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ سیمین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز جیسی اہم گزر گاہیں بند ہوئیں تو پوری دنیا ایک سنگین بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

پارٹی کے مطالبات پر روشنی ڈالتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان کا بنیادی مطالبہ ایران سے ہر قسم کے آمرانہ، موروثی یا مذہبی مرکزی نظام کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے ایک ایسے غیر مرکزی (ڈی سینٹرلائزڈ) نظام کی ضرورت پر زور دیا جہاں سیاسی طاقت صوبوں اور علاقوں میں تقسیم ہو۔ انہوں نے ان خبروں کی تردید کی کہ ان کی جماعت کا اسرائیل کے ساتھ کوئی رابطہ یا تعاون ہے۔

تہران سے
تہران سے

ایرانی نظام کے گرنے کے امکان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے ایک پیچیدہ معاملہ قرار دیا کیونکہ موجودہ نظام کی جڑیں معاشرے میں گہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب جیسی متوازی عسکری اور سکیورٹی تنظیمیں "ریاست کے اندر ریاست" بن چکی ہیں اور معاشی طور پر بہت سے لوگ ان سے وابستہ ہیں۔ ان کے بقول یہ نظام ایک آکٹوپس کی طرح معاشرے میں سرایت کر چکا ہے، جہاں لوگ اب نظریاتی طور پر تو وابستہ نہیں رہے اور کرپشن سے بھی واقف ہیں۔ تاہم معاشی مجبوریوں کی وجہ سے اس سے الگ ہونا ان کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں