بغداد میں امریکی صحافی کا اغوا، واشنگٹن اور ایف بی آئی متحرک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بغداد میں ایک امریکی صحافی کے اغوا سے متعلق خبروں سے آگاہ ہے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اس واقعے کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا پہلے ہی عراق میں سکیورٹی خطرات سے متعلق خبردار کر چکا تھا، اب وہ اس معاملے کی تحقیقات اور حقائق جاننے کے لیے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔

ایک متعلقہ پیش رفت میں وزارت نے بتایا کہ عراقی حکام نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے، جس پر اغوا میں ملوث ہونے کا شبہ ہے اور اس کے ایران نواز گروہ ''کتائب حزب اللہ ''سے تعلقات بتائے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل منگل کے روز عراقی وزارت داخلہ نے تصدیق کی تھی کہ نامعلوم افراد نے ایک غیر ملکی (امریکی) صحافی کو اغوا کر لیا۔

وزارت کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تعاقب کے دوران اغوا کاروں کی گاڑی کو گھیر لیا، جو فرار کی کوشش میں الٹ گئی، جس کے نتیجے میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی۔اغوا ہونے والی صحافی کی شناخت شیلی کلیسٹن کے نام سے ہوئی ہے۔

وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ باقی ملزمان کی تلاش اور مغوی صحافی کی بازیابی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک میں سکیورٹی کو نقصان پہنچانے یا غیر ملکی مہمانوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنائیں گے اور قانون توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اٹلی میں مقیم امریکی خاتون

العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق بغداد میں ایک مسلح گروہ نے امریکی صحافی شیلی کلیسٹن کو اغوا کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ایک اغوا کار کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمان مغویہ کو ساتھ لے کر فرار ہو گئے۔

مزید یہ کہ العربیہ/الحدث کی جانب سے حاصل کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت کی ایک سڑک پر ایک خاتون کے قریب ایک گاڑی آ کر رکی، جس کے بعد مسلح افراد اس کے قریب آئے اور اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر تیزی سے وہاں سے فرار ہو گئے۔

ڈرائیور کا تعلق ایک سکیورٹی ادارے سے

ایک عراقی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ شیلی کلیسٹن کے اغوا کے واقعے میں گرفتار ڈرائیور کے پاس ایک سکیورٹی ادارے کا شناختی کارڈ موجود ہے، جبکہ امریکی صحافی کو صوبہ بابل منتقل کیے جانے کی اطلاع ہے۔

العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق مغوی صحافی امریکی شہری ہے، تاہم اس نے اپنی پوری زندگی اٹلی میں گزاری ہے اور وہ اطالوی خبر رساں ادارے کے ساتھ کام کرتی ہے، اس کے علاوہ مختلف ویب سائٹس اور اخبارات جیسے "المونٹیر" کے لیے بطور فری لانس صحافی بھی خدمات انجام دیتی رہی ہے۔

ادھر بغداد میں امریکی سفارتخانے نے حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران اپنے شہریوں کو بار بار سکیورٹی الرٹس جاری کیے تھے، جن میں بڑھتے ہوئے خطرات خصوصاً اغوا کے خدشے سے خبردار کیا گیا تھا۔

28 فروری کو ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران سے منسلک ملیشیاؤں نے عراق کے مختلف علاقوں، بشمول کردستان ریجن، میں غیر ملکیوں کے زیرِ استعمال ہوٹلز اور امریکا سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں عراق میں متعدد کارکنوں، محققین اور صحافیوں کو قتل، قتل کی کوششوں اور اغوا جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب ملک کچھ عرصہ قبل سکیورٹی استحکام کی جانب بڑھ رہا تھا، تاہم 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد حالات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔

یاد رہے کہ ستمبر 2025 میں بغداد سے اسرائیلی نژاد روسی محققہ الزبتھ تسورکوف کو تقریباً ڈھائی سال بعد بازیاب کرایا گیا تھا۔

عراقی حکومت نے اس کے اغوا کاروں کو قانون سے باہر عناصر قرار دیا تھا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نواز کتائب حزب اللہ نے اسے رہاکیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں