225 سال بعد برطانوی بیڑے کے ہاتھوں غرق ہونے والا ڈینش بحری جہاز دریافت

بحری جہاز "دانبروج" کا تعلق انیسویں صدی سے ہے، کوپن ہیگن کی جنگ 1801 میں ہوئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایڈمرل ہوراشیو نیلسن اور برطانوی بیڑے کے ہاتھوں غرق ہونے کے 200 سے زیادہ سال بعد بحری آثار قدیمہ کے ماہرین کوپن ہیگن کی بندرگاہ کی تہہ میں ایک ڈینش جنگی بحری جہاز دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

غوطہ خور وقت کے خلاف دوڑ رہے ہیں کیونکہ پانی کی سطح سے 15 میٹر نیچے گہری تلچھٹ اور بصارت کی عدم موجودگی میں انیسویں صدی کے جہاز ’’ دانبروج ‘‘ کے ملبے کو بے نقاب کرنا مقصود ہے۔ مقصد یہ تھا کہ ملبے کو اس جگہ کے ڈنمارک کے ساحل پر تعمیر ہونے والے ایک نئے رہائشی علاقے کی تعمیراتی سائٹ میں تبدیل ہو جانے سے پہلے دریافت کرلیا جائے۔

ڈنمارک کے ’’وائکنگ شپ ‘‘ میوزیم ، جو مہینوں سے زیرِ آب تلاش اور کھدائی کی قیادت کر رہا ہے، نے جمعرات کو اپنی دریافتوں کا اعلان کیا۔ یہ دریافت 1801 میں کوپن ہیگن کی جنگ کے 225 سال بعد ہوئی ہے۔ میوزیم میں بحری آثار قدیمہ کے شعبے کے سربراہ مورٹن جوہانسن نے کہا کہ یہ ڈنمارک کی قومی شناخت کا ایک حصہ ہے۔

جوہانسن نے واضح کیا کہ اس جنگ کے بارے میں بہت زیادہ پرجوش لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے لیکن ہم حقیقت میں یہ نہیں جانتے کہ اس جہاز پر ہونے کا احساس کیسا تھا جس پر اس وقت تک گولہ باری کی گئی جب تک کہ انگریزی جنگی بحری جہازوں نے اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کر دیا، شاید ہم اس کے ملبے کو دیکھ کر اس کہانی کی کچھ تفصیلات جان سکیں۔

کوپن ہیگن کی جنگ میں نیلسن اور برطانوی بیڑے نے ڈینش بحریہ پر حملہ کیا تھا اور اسے اس وقت شکست دی تھی جب وہ بندرگاہ کے باہر دفاعی حصار بنائے ہوئے تھی۔ گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس وحشیانہ بحری جھڑپ ، جسے نیلسن کی لڑی گئی بڑی جنگوں میں سے ایک مانا جاتا ہے، میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس جنگ کا مقصد ڈنمارک کو شمالی یورپی طاقتوں کے اس اتحاد سے باہر نکالنا تھا جس میں روس، پروشیا اور سویڈن شامل تھے۔ توقع ہے کہ کھدائی کے مقام پر جلد ہی ’’ لینیٹ ہولم ‘‘ نام کے بڑے منصوبے کی تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی تاکہ کوپن ہیگن کی بندرگاہ کے وسط میں ایک نیا رہائشی علاقہ قائم کیا جا سکے جس کی تکمیل 2070 تک متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں