پانچ ہفتے قبل ایران میں جنگ چھڑنے کے ساتھ ہی تنازع صرف روایتی فوجی محاذوں تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ ایک نئی فضا میں منتقل ہو گیا ہے جس کی قیادت ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کر رہی ہے۔ امریکی اخبار ’’ واشنگٹن پوسٹ ‘‘ کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مبصرین اور ڈیجیٹل تجزیاتی پلیٹ فارمز نے سوشل میڈیا پر پوسٹس کی ایک وسیع لہر دیکھی ہے جس میں امریکی اڈوں کے اندر موجود ساز و سامان، طیارہ بردار بحری جہازوں کے گروپوں کی نقل و حرکت اور تہران پر حملوں سے پہلے ہونے والی فضائی تیاریوں کی درست تفصیلات ظاہر کی گئی ہیں۔
اس کا ذریعہ روایتی انٹیلی جنس لیکس نہیں تھیں بلکہ نجی چینی کمپنیاں تھیں جنہوں نے مصنوعی ذہانت کی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے کھلے ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی ایک بڑھتی ہوئی مارکیٹ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کمپنیاں تجارتی سیٹلائٹ تصاویر، فضائی اور سمندری نیویگیشن ڈیٹا اور عوامی طور پر دستیاب معلومات جمع کرتی ہیں، پھر انہیں دوبارہ پروسیس کر کے ایسی فوجی انٹیلی جنس رپورٹیں تیار کرتی ہیں جو عوامی طور پر گردش کر سکتی ہیں۔
بحران کے دوران بیجنگ کی جانب سے اس بات پر اصرار کے باوجود کہ وہ جنگ میں براہ راست فریق نہیں ہے، حالیہ برسوں میں ایسی کئی کمپنیاں ایک چینی پالیسی کے تحت ابھری ہیں جس کا مقصد سویلین صلاحیتوں کو فوجی ایپلی کیشنز کے ساتھ ضم کرنا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ ان کمپنیوں کا عروج براہ راست تصادم میں شامل ہوئے بغیر چینی انٹیلی جنس طاقت دکھانے کی کوشش کی عکاسی کر رہا ہے۔
ان کمپنیوں میں سب سے نمایاں کمپنی "میزار ویژن" ہے جس کا صدر دفتر چینی شہر ہانگژو میں ہے جو 2021 میں قائم ہوئی لیکن مختصر عرصے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں کی نگرانی میں ایک اہم کھلاڑی بن گئی ہے ۔ کمپنی مصنوعی ذہانت کے الگورتھم پر انحصار کرتی ہے جو امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی، بحری جہازوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے اور طیاروں اور میزائل دفاعی نظام کے مقامات اور اقسام کی نشاندہی کرنے کے لیے چینی اور مغربی ڈیٹا کو یکجا کرتے ہیں۔
کمپنی نے ایسی تصاویر اور تجزیے شائع کیے ہیں جن میں آپریشن ’’ ایپک فیوری ‘‘کے آغاز کے موقع پر امریکی افواج کی تعیناتی دکھائی گئی ہے۔ طیارہ بردار بحری جہازوں "یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ" اور "یو ایس ایس ابراہام لنکن" کی نقل و حرکت بھی دکھائی گئی ہے۔ اس نے اسرائیل کے اندر عوفدا ایئربیس پر تعینات طیاروں کی تعداد کے تفصیلی تخمینے اور خطے کے دیگر اڈوں کے بارے میں متفرق ڈیٹا بھی پیش کیا جسے تجزیہ کاروں نے نجی کمپنیوں کی اس صلاحیت کا اشارہ قرار دیا کہ وہ سب کے لیے دستیاب تجارتی تصاویر کو اعلیٰ قدر کی حامل انٹیلی جنس مصنوعات میں تبدیل کر سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ ان تجزیوں میں استعمال ہونے والی تصاویر کا ایک حصہ مغربی اور یورپی کمپنیوں کی تجارتی تصاویر پر مبنی معلوم ہوتا ہے جن میں یورپی کمپنی "ایئربس" اور خلا سے تصاویر لینے میں ماہر امریکی کمپنی "پلانیٹ لیبز" شامل ہیں۔ تاہم ان کمپنیوں نے چینی کمپنی کے ساتھ کسی بھی براہ راست تعاون کی تردید کی اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی تنازعات کے دوران تصاویر کی فروخت پر سخت پابندیاں عائد کرتی ہیں۔ یہ پابندیاں خاص طور پر ان علاقوں میں ہوتی ہیں جہاں امریکی یا اتحادی افواج تعینات ہیں۔
چین میں نجی دفاعی صنعت کے شعبے کے اندر کام کرنے والے ذرائع کے مطابق "میزار ویژن" کے پاس امریکی امیجنگ سسٹم تک براہ راست اور فوری رسائی نہیں ہے بلکہ وہ تجارتی طور پر دستیاب تصاویر کی اشاعت کے بعد ان کا تجزیہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے جس سے امریکی افواج کی نقل و حرکت کے پیٹرن کو حیرت انگیز درستگی کے ساتھ نکالنا ممکن ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈیٹا کا ایک اہم حصہ چینی سیٹلائٹ سسٹم "جیلین-1" سے آتا ہے۔ یہ سسٹم مسلسل تصویری اپڈیٹس فراہم کرتا ہے جس سے فوجی سرگرمیوں کی تقریباً لمحہ بہ لمحہ نگرانی ممکن ہوتی ہے۔
یہ رجحان صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہا۔ ایک اور چینی کمپنی "جینگن ٹیکنالوجی" ، جس کا صدر دفتر بھی ہانگژو میں ہے، نے اعلان کیا ہے کہ اس نے فوجی آپریشن کے پہلے حملوں کے دوران امریکی "بی-2 سپرٹ" سٹیلتھ بمبار طیاروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی ریکارڈنگ کا کامیابی سے تجزیہ کیا ہے۔ کمپنی نے ایک قابل ذکر تبصرہ شائع کیا جس میں کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت مطلق پوشیدگی کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی۔ بعد میں اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے اس ریکارڈنگ کو حذف کر دیتی ہے۔
سکیورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت عالمی انٹیلی جنس کام کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ اب جبکہ فوجی نگرانی کی صلاحیتیں صرف حکومتوں اور خودمختار اداروں تک محدود ہیں، نجی کمپنیاں نسبتاً دستیاب تجارتی آلات کا استعمال کرتے ہوئے قومی انٹیلی جنس کے درجے کے قریب تشخیص پیدا کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کے محققین کے تخمینے بتاتے ہیں کہ چین میں مصنوعی ذہانت سے لیس جغرافیائی تجزیاتی کمپنیوں کا پھیلاؤ مستقبل کے بحرانوں کے دوران امریکی افواج کو چیلنج کرنے کی بیجنگ کی صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے۔ ایسا براہ راست فوجی تصادم کے ذریعے نہیں ہوگا بلکہ دشمنوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور جدید تجزیہ کی صلاحیت رکھنے کے ذریعے ہوگا۔
ایران میں جنگ نے اس طرح ایک نئی تزویراتی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ فوجی نقل و حرکت کو چھپانا اب صرف آپریشنل رازداری یا سٹیلتھ ٹیکنالوجی پر منحصر نہیں رہا کیونکہ کھلا ڈیٹا خود خام انٹیلی جنس مواد میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ اب سب کے لیے دستیاب بکھری ہوئی معلومات سے مکمل فوجی تصویر کو دوبارہ ترتیب دینا ممکن ہو گیا ہے۔